اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی عاجزی اور شکر گزاری کے ساتھ، ہم اس ادارے کی نسبت اسلام کے اس اولین تعلیمی مرکز سے جوڑتے ہیں جو کوہِ صفا کے دامن میں حضرت ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ وہی مبارک مقام ہے جہاں 571 عیسوی میں محسنِ انسانیت، خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام قبول کرنے والے جاں نثاروں کی علمی و فکری آبیاری فرمائی اور ایک ایسی عظیم الشان تہذیب کی بنیاد رکھی جس نے انسانی زندگی کا بے مثال نقشہ پیش کیا۔ دارِ ارقم تاریخِ اسلام کی وہ پہلی درسگاہ تھی جس نے ایسی قیادت تیار کی جو علم و عمل کا پیکر اور تقویٰ و بصیرت کا چلتا پھرتا نمونہ تھی۔
آج کے پرفتن دور میں جہاں موجودہ نظامِ تعلیم بے مقصدیت، مادیت پرستی اور سیکولر نظریات کی وجہ سے نئی نسل کے لیے فکری تباہی کا باعث بن رہا ہے، وہاں دارِ ارقم نے اپنے نظامِ تعلیم کی بنیادیں ایمان، اخلاص اور بلند مقاصد پر استوار کی ہیں۔ ہم نے تعلیم کے مروجہ ڈھانچے کو جدید ترین سائنسی نصاب سے مزین کرتے ہوئے اسے قرآن و سنت کی روشنی سے منور کیا ہے، تاکہ مستقبل کے ان معصوم پودوں کو جدید علوم کی شاخوں سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی روح کو ایمانی جلا بھی بخشی جا سکے۔
ہمارا مشن محض ڈگریوں کا حصول نہیں، بلکہ ایسے روشن دماغ اور باکردار نوجوان تیار کرنا ہے جو جدید دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کے محافظ بھی ہوں۔ دارِ ارقم سکولز اسی مبارک نسبت کے علمبردار ہیں، جو عصری تعلیم اور مثالی تربیت کے حسین امتزاج سے پاکستان اور امتِ مسلمہ کو ایسی بہترین افرادی قوت اور صالح قیادت فراہم کر رہے ہیں جو دین و دنیا کی سربلندی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔

دارارقم سکولز چنیوٹ
چنیوٹ شہر میں دار ارقم سکول کا تعلیمی سفر اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور عوامی مقبولیت کے ساتھ 2011 میں شروع ہوا۔ اس علمی مشن کا پہلا قدم مندر روڈ پر ٹی بی کلینک کے قریب ایک کیمپس کی صورت میں اٹھایا گیا، جسے شہریوں کی جانب سے اس قدر پذیرائی ملی کہ محض ایک سال کے قلیل عرصے میں داخلوں کی کثرت کے باعث بلڈنگ کی گنجائش کم پڑ گئی اور انتظامیہ کو فوری طور پر عمارت کی ایک نئی منزل تعمیر کرنی پڑی۔ اس تعلیمی سفر میں وسعت کا دوسرا بڑا مرحلہ تین سال بعد اس وقت سامنے آیا جب طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد اور صنفی بنیاد پر علیحدہ تعلیمی ماحول کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے فیصل آباد روڈ پر واقع سابقہ کامرس کالج کی عمارت میں “بوائز کیمپس” قائم کر دیا گیا، جس سے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ کیمپسز کی سہولت میسر آگئی۔
تعلیمی خدمات کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ 2018 میں شہر کے دوسرے اہم حصے معظم شاہ روڈ پر ایک جدید “جونیئر کیمپس” کا اضافہ کیا گیا تاکہ نوخیز طلبہ کو ان کے گھروں کے قریب بہترین تعلیمی و تربیتی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ آج الحمد للہ دار ارقم سکول کے یہ تینوں کیمپسز اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ چنیوٹ کے نونہالوں کی اخلاقی اور علمی آبیاری میں مصروف عمل ہیں۔ تعلیمی معیار کی پختگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2021 میں میٹرک کا پہلا بیچ فارغ التحصیل ہوا اور تب سے لے کر 2025 تک مسلسل پانچ تعلیمی سیشنز شاندار امتحانی نتائج کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر چکے ہیں۔ یہ ادارہ اب چنیوٹ میں جدید علوم اور اسلامی اقدار کے حسین امتزاج کی ایک معتبر علامت بن چکا ہے۔
ہمارا مشن
تعمیرِ شخصیت اور عزمِ نو دارِ ارقم سکولز کا بنیادی مشن محض نصابی کتب کی تدریس تک محدود نہیں، بلکہ ہم اپنے طلبہ کو اعلیٰ ترین معیارِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا مقصد نونہالوں کے اندر وہ خود اعتمادی اور ہمت پیدا کرنا ہے جو انہیں زندگی کے ہر امتحان میں سرخرو کر سکے۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو عزم و استقلال کے ساتھ اپنے معاشرے، قوم اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکے اور پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باوقار اور ترقی یافتہ مقام دلا سکے۔ ہمارے نزدیک تعلیم ایک ایسی قوت ہے جو فرد کو خود شناس بنا کر اسے انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیتی ہے۔
ہمارا وژن
“ فلاحِ دارین کا حصول ہمارا وژن قرآنی دعا “رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ” (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا) کی عملی تصویر ہے۔ یہ وہ جامع دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود انسان کو سکھائی اور خانہ کعبہ کے طواف جیسی عظیم عبادت کے دوران اسے مانگنے کی خصوصی تاکید فرمائی گئی۔ یہی دعا دارِ ارقم کی اساس اور منزل ہے۔ ہم اس عظیم وژن کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کی ایسی مثالی تربیت کر رہے ہیں کہ وہ جدید دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے دنیاوی کامیابیاں بھی سمیٹیں اور اپنے ایمان و عمل کی بدولت آخرت کی ابدی زندگی میں بھی کامرانی پائیں۔ ہمارا نصب العین ایک ایسے “کامیاب انسان” کی تخلیق ہے جو زمین پر اللہ کا بہترین نائب ثابت ہو اور جس کی کامیابی کا سفر دنیا سے شروع ہو کر جنت کی وسعتوں تک پھیلا ہوا ہو۔

