بھائی ورزش شروع کر دو ۔ نایاب علی

بھائی ورزش شروع کر دو

“یار ڈاکٹر مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ میں کیا کروں؟” کاشف نے اکتاہٹ والے انداز میں کہا۔ “یار کاشف دیکھو میں صرف ڈاکٹر نہیں تمھارا بچپن کا دوست بھی ہوں، دیکھو میں تمھارے بھلے کے لئے ہی کہہ رہا ہوں کہ پلیز ورزش شروع کر دو، اور نہیں تو کوئی گیم ہی شروع کر دو، لائک کرکٹ، فٹ بال یا ٹینس بال وغیرہ اور یہ بات میں نے تم سے تقریباً چھ ماہ پہلے بھی کہی تھی،” ڈاکٹر عامر عزیز نے فکرمندانہ انداز میں کہا۔

“بھائی تو قسم لے لے جومیں نے ان چھ ماہ میں ایک بھی دن کرکٹ کا ناغہ ڈالا ہو تو،”کاشف نے پر اعتماد انداز سے کہا تو ڈاکٹر عامر عزیز سوچ میں پر گئے۔ “بھائی کن سوچوں میں پر گئے ہو؟” کاشف نے سوچوں میں ڈوبے ڈاکٹر عامر عزیز سے پوچھا۔ “نہیں کچھ نہیں۔ اچھا یہ بتاؤ کہ تم کرکٹ کتنی دیر کھیل رہے ہو کیونکہ تمھیں دیکھ کے لگتا نہیں کہ تم کوئی بھی ایسا محنت والا کام کر رہے ہو جس سے کہ جسم متحرک رہے،” ڈاکٹر عامر عزیز نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔

“بھائی سارا دن صرف ضروری، ضروری کام ہی کرتا ہوں، باقی سارا دن کرکٹ میں ہی گزرتا ہے،” کاشف نے پر اعتماد انداز میں کہا تو ڈاکٹر عامر عزیز مزید حیرت میں مبتلا ہو گئے۔ ہممم، ڈاکٹر عامر عزیز کو ابھی بھی کاشف کی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا، کچھ سوچتے ہوئے بولے، “کاشف ویسے تم کہاں کھیلتے ہو؟” “اور کہاں بھائی موبائل پر ہی آن لائن،” کاشف نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔

“بہت اچھے، ویری گڈ کاشف، شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہے تم میں، صحیح کہا کسی نے مفت کے مشورے کی کوئی ویلیو ہی نہیں ہوتی، تمھارے لئے ورزش بے حد ضروری ہے تم اس وقت پنتالیس سال کے ہو چکے ہو تو اس کا یہ مطلب بلکل بھی نہیں ہے کہ زندگی ختم ہو گئی ہے، میں ایک فیزوتھریپسٹ ہوں، اسی لئے انسان کی زندگی میں ورزش اور سپورٹس کس قدر ضروری ہیں میں بہت اچھے سے جانتا ہوں، تمھیں یہ جو عجیب، عجیب سے خیالات اور سوچیں آتیں ہیں یہ سب ٹھیک ہو جائیں گی تم بس میری بات مان کر باقاعدہ کوئی فزیکل سپورٹس یا ورزش شروع کر دو،” ڈاکٹر عامر عزیز نے کاشف کو سمجھایا۔ “کمال ہے ڈاکٹر، مطلب کہ روزانہ ورزش کرنے سے میرا ڈیپریشن، اینگزائٹی وغیرہ ختم ہو جائیں گی؟” کاشف نے مزاحیہ انداز میں پوچھا۔ بھائی ختم نہ بھی ہو تو کمی ضرور آ جائے گی اور ورزش کا کوئی نقصان تو نہیں ہے تجربے کے طور پر ہی شروع کر دو،” ڈاکٹر عامر عزیز نے سمجھایا۔

“اچھا! ٹھیک ہے بھائی وعدہ کل صبح سے روز ورزش کروں گا، اب کچھ جوس ووس منگوا لے بھائی”کاشف نے ہار مانتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر عامر عزیز نے موبائل نکالا اور ایک نمبر ڈائل کیا اور جوس کا آرڈر دیا۔ “ڈاکٹر، سوری یار، بس مصروفیات کی وجہ سے میرے ذہن سے نکل گیا تھا اور میں بس دماغ کو ریلیکس کرنے کے لیے ہر وقت موبائل پر گیمز کھیلتا رہتا تھا، مگر اب مجھے سمجھ آ رہی ہے کہ اگر میرا جسم چست اور اور صحت مند ہو گا تو دماغ بھی صحت مند رہے گا، شکریہ یار مجھے سمجھانے کے لئے،” کاشف نے موبائل جیب سے نکال کر سامنے پرے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا، اور پھر دونوں دوست کافی دیر تک صحت و تندرستی کے ٹاپک پر باتیں کرتے رہے۔

(نایاب علی، رحیم یارخان)