تلاوت قرآن مجید کی فضیلت واہمیت ۔ مختار چوہان

ہمارے پیارے مذہب اسلام کی تاریخ اس چیز کی گواہ ہے، کہ حق شناس اہل کتاب لوگ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں بھی موجود تھے اور آج کے دور میں بھی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی اہمیت اور تلاوت قرآن پاک کی فضیلت کو جاننے والے ہزاروں غیر مسلم لوگ بھی موجود ہیں۔ انہی حق شناس لوگوں کے بارے میں اللہ تعالی قرآن کریم کی سورۃ المائدہ آیت نمبر 83 میں ارشاد فرماتا ہے کہ:

جب یہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل کیا گیا تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں کیونکہ وہ حق کو پہچانتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے، تو ہمارا نام لکھ لیجئے ایمان کی گواہی دینے والوں کے ساتھ۔

پٹنہ یونیورسٹی کے ایک مسلمان پروفیسر صاحب بتاتے ہیں، کہ وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے خانہ کعبہ گئے۔ جب سب لوگ نماز کے لیے صف میں کھڑے ہوئے تو ہمارے ساتھ ایک قد کاٹھ والا سفید گورا آدمی بھی کھڑا ہوا۔ جونہی امام کعبہ نے قرآن کریم کی قرآت شروع کی تو وہ آدمی زار و قطار رونے لگا۔ پروفیسر صاحب بتاتے ہیں کہ نماز ختم ہونے کے بعد میں نے اس آدمی کو سلام کرنے کے بعد مصافحہ کیا اور اس کا تعارف پوچھا۔ اس آدمی نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ آسٹریلیا کا رہنے والا ہے اور اس سے پہلے وہ ایک پادری تھا۔

قرآن پاک پڑھنے کے بعد وہ مسلمان ہو گیا اور اب وہ خانہ کعبہ کی زیارت کرنے کے لیے یہاں آیا ہوا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ میں توریت و انجیل کا عالم بھی ہوں۔ اس کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی کی ان کتابوں میں اب بہت سی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔ اصل توریت و انجیل تو یہ قرآن پاک ہے۔ کیونکہ جو تعلیمات اللہ تعالی نے ان کتابوں میں بیان کی ہیں وہ سب قرآن پاک میں موجود ہیں۔

اگرچہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہوئی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے ایمان والے مسلمانوں کو اس کی حفاظت کا وسیلہ بھی بنایا ہے۔ وہ اس طرح، کہ مسلمان روزانہ کی بنا پر قرآن پاک کی تلاوت کریں۔ اپنی نمازوں میں اس پاک کلام کی قرآت کریں، اسے خود بھی یاد کریں اور اپنے بچوں کو بھی حفظ کروائیں۔ ہر خوشی و غمی میں قرآن کریم کی تلاوت کریں اور خصوصا رمضان المبارک میں تلاوت قرآن پاک کا خصوصی اہتمام کریں۔

اب چونکہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ ویسے بھی قرآن کریم اور رمضان المبارک کے مہینے کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ اس لیے اس ماہ مبارک میں اللہ تعالی کی رحمتوں اور برکتوں کی قدر کرتے ہوئے ہم سب کو روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن پاک میں بھی مصروف عمل رہنا چاہیے۔ رمضان المبارک اور قرآن پاک قیامت کے روز تلاوت کرنے والوں اور روزہ رکھنے والوں کے حق میں شفاعت کی سفارش بھی کریں گے۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، کہ قیامت کے دن رمضان اور قرآن روزہ رکھنے اور تلاوت کرنے والوں کے حق میں سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا، اے پروردگار میں نے اس شخص کو دن میں کھانے پینے سے روک دیا تھا۔ لہذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کریم کہے گا، کہ اے میرے رب میں نے رات میں اس کو سونے سے روک دیا تھا۔ لہذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ پھر رمضان اور قرآن دونوں کی سفارشیں قبول کر لی جائیں گی۔

تو دوستو، ضرورت اس امر کی ہے، کہ ہم سب لوگ اس ماہ مبارک میں اپنا زیادہ سے زیادہ وقت تلاوت قرآن پاک میں گزاریں۔ اس سے ایک تو ہم آخرت میں اللہ تعالی کے سامنے بھی سرخرو ہو جائیں گے مگر اس کے ساتھ ساتھ روزہ کی حالت میں ہم بد کلامی، جھوٹ اور غیبت جیسے گناہوں سے بھی بچیں گے اور ادھر ادھر کی بے مقصد باتوں سے بھی محفوظ رہیں گے۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ رمضان المبارک میں 60 قرآن پاک ختم کیا کرتے تھے۔ ایک قرآن پاک دن کو اور ایک قرآن پاک رات کو ختم کرتے تھے۔

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو زیادہ تر اہل علم کی مجلسوں سے دور رہ کر قرآن پاک دیکھ کر تلاوت کیا کرتے تھے۔

حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ہر رات ایک قرآن پاک ختم کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ عرب و عجم میں حدیث و علوم میں مشہور حدیث کے اہم سکالر حضرت شیخ محمد زکریا رحمت اللہ علیہ رمضان المبارک میں ہر روز ایک قرآن پاک ختم کیا کرتے تھے۔

رمضان المبارک میں تلاوت قرآن پاک کی اس لیے بھی زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ کیونکہ یہ ماہ مبارک قرآن پاک کے نازل ہونے کا بھی مہینہ ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ البقرہ آیت نمبر 185 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ:

رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے، کہ جس میں قرآن پاک نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت نامہ ہے اور ہدایت حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح دلیلوں پر مشتمل ہے۔

اسی لیے پوری دنیا میں مسلمان رمضان المبارک میں انفرادی اور اجتماعی طور پر قرآن پاک کی کثرت سے تلاوت کرتے ہیں۔ تمام اسلامی ممالک میں مسجدیں اور مسلمانوں کے گھر دن کو انفرادی طور پر تلاوت قرآن پاک سے گونج رہے ہوتے ہیں اور رات کو اجتماعی طور پر مسجدوں میں تراویح کی شکل میں مسلمان قرآن پاک پڑھنے اور سننے کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔

تو قارئین کرام، رمضان المبارک میں باقی عبادات کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن کریم کو اس لیے بھی زیادہ ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ ویسے تو قرآن کریم کا ایک لفظ پڑھنے سے انسان کو دس نیکیاں ملتی ہیں۔ لیکن اس ماہ مبارک میں باقی نیکیوں کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کا ایک لفظ تلاوت کرنے سے انسان کا اجر و ثواب 70 گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

اس لیے میری تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ تلاوت قرآن کا اہتمام کریں اور دوسروں کو بھی کثرت سے تلاوت قرآن کریم کرنے کی دعوت دیں۔ ہر مسلمان سے میری التجا ہے کہ اس رمضان المبارک کے مہینے میں زیادہ نہیں تو ایک قرآن پاک لازمی ختم کریں۔

اللہ تعالی ہم سب کو روزہ اور تلاوت قرآن کریم کی برکت سے تقوی و پرہیزگاری والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور دونوں جہانوں میں کامیابی و کامرانی نصیب فرمائے۔ آمین۔

(مختار چوہان، چنیوٹ)