حوصلہ افزائی ۔ عائزہ
حوصلہ افزائی کیا ہے؟ کسی کی تعریف کرنا ، ہمت بڑھانے یا اس کو شاباش دینا ہے۔ جب کے اس کا متضاد حوصلہ شکنی ہے جس کے معنی ہمت توڑنا کے ہے۔یہ ایسے دو مراحل ہے جن کا اثر ہر انسان کی زندگی پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہے۔
ہمارے سامنے دو راستے ہوتے ہے جنھیں ہم مثبت اور منفی پہلو کہہ سکتے ہیں ۔یہ اب ہم پہ انحصار کرتا ہے کے ہم کونسے راستے اور چلنا پسند کرتے ہیں۔
میں سمجھتی ہو ں جیسے ہر انسان کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ایسے ہی ہر انسان کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔چاہے وہ زندگی کے کسی بھی مقام پر کیوں نہ ہوں ۔بالکل ویسے ہی جیسے گاڑی کو چلانے کے لیے پیٹرول کی ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
“ایک مہربان لفظ کسی کا پورا دن بدل دیتا ہے۔”
علامہ اقبال بھی لکھتے ہے ۔
” تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا۔۔۔۔۔
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہے ۔۔۔۔۔۔
آج کی بچے ہمارے شاہین ہے اور انھیں پرواز سکھانے کا کام ہمارا ہے۔اورمیں سمجھتی ہو ں آج کا بچہ حوصلہ افزائی سے چلتا ہے۔آج کا بچہ اپنی عزت نفس کی توہین نہیں برداشت کر سکتا ہے ۔صرف بچے ہی کیوں ہر شعبے میں، ہر مرحلے میں، ہر رشتے میں انسان تعریف کا طلبگار ہے۔
ہمارے پیارے رسول اکرم صلی االلہ علیہ وآلہ وسلّم نے بھی ہمیں تعریف کرنے اور سراہنے کا درس دیا ہے ۔
بڑے چھوٹوں کی، استاد بچوں کی ،دوست دوستوں کی، پرنسپل اسا تذہ کی، مالک نوکر کی چھوٹی سے چھوٹی بڑی سے بڑی بات پر حوصلے بلند کرتے رہے تو بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
آپ کا ایک تعریفی جملہ کسی کے لیے کتنی خوشی کا باعث بنتا ہے یہ شاید ہم اندازہ بھی نہیں لگا پاتے ۔اور خوشیاں بانٹنا صدقہ جاریہ ہے۔آپ کا ایک حوصلہ کن لفظ کسی کے دل پر کتنا اثر کرے گا۔ آپ کا ایک جملہ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔ آپکا ایک لفظ کسی کی کھوئی ہوئی امید جگا سکتا ہے۔ آپکا ایک لفظ ایک بچے کی زندگی سنوار سکتا ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے۔
“بہترین اخلاق ہمتوں کی بلندی ہے۔”
آج ہم کیا کرتے ہے اپنی انا اپنے حسد کی چکی میں دوسروں کی خوشیاں دوسروں کی اُمید پسِ دیتے ہے۔کسی کی تعریف کرنا کسی کی حوصلہ افزائی کرنا ہمیں دنیا کا سب سے مشکل کام لگتا ہے ۔کیوں کہ ہماری انا کو تسکین نہیں ملتی ۔ہم اگر کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے تو کم از کم کسی کی حوصلہ شکنی کر کے اس کا دل تو نہ توڑا جائے ۔ہم سبھی کے لیے سورج تو نہیں بن سکتے مگر کسی نہ کسی ایک کے لیے دیا تو بن ہی سکتے ہیں ۔جو نہ اُمید ہے اُن کے ہاتھوں میں اُمید کا جگنو تھما کر تو دیکھو ۔
عائزہ ۔
دارارقم سکول ، چنیوٹ


