خوف خدا ۔مختار چوہان
خوف خدا کا مطلب اللہ تعالی کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں، اس کی ناراضگی اور اس کی گرفت کے بارے میں سوچ کر انسان کا دل گھبرا جائے۔ جہنم کی سزاؤں کے بارے میں سن کر انسان کا دل کانپ جانا، آخرت کے عذاب کے بارے میں سن کر گناہوں کو چھوڑنے پر آمادہ ہو جانا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے رحمت کی امید رکھنا خوف خدا کہلاتا ہے۔
دل میں خدا کا خوف رکھنے والوں کو آخرت میں جنت کی بشارت اور کامیابی کی خوشخبری دی گئی ہے۔ خوف خدا رکھنے والے اللہ تعالی کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مکرم ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ خوف خدا صرف ایمان والوں کو ہی نصیب ہوتا ہے۔ آخرت میں حساب کتاب کا دن ایک ایسی حقیقت ہے جس سے بچنا ناممکن اور اس کے بارے میں فکر کرنا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔
جو انسان قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے، آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اپنے نفس کو گناہوں سے بچاتا ہے اس کے لیے اللہ تعالی نے سورۃ رحمن کی آیت نمبر 46 میں ایک نہیں دو جنتوں کی بشارت دی ہے۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج انسان سب باتوں کا علم ہونے کے باوجود بھی خوف خدا اپنے دل سے نکال کے کتنے گناہوں کی طرف راغب ہو چکا ہے. مثلا جھوٹ، فریب، دھوکہ بازی، غیبت، چوری، امانت میں خیانت، چغل خوری اور نہ جانے کتنے ایسے گناہ ہیں جو انسان بے دھڑک کرتا جا رہا ہے. کسی کے دل میں کوئی خوف خدا رہا ہی نہیں ہے۔
آج کل اگر کسی سے کوئی نیک کام کرنے کا کہہ دیا جائے یا کسی برے کام سے روکا جائے تو کافی سارے لوگ جواب دیتے ہیں کہ آخرت میں دیکھا جائے گا۔ او بھائی یاد رکھیں، ادھر کچھ بھی نہیں دیکھا جائے گا۔ ہم لوگوں سے ادھر تو کچھ دیکھا نہیں جاتا ادھر کیا دیکھا جائے گا؟ مثلا اگر روڈ پہ کوئی ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے، کوئی زخمی ہو جاتا ہے یا مر جاتا تو ہم لوگوں کو بتاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یار ہم سے تو دیکھا ہی نہیں جا رہا تھا۔ فرض کیا ہمارا اپنا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے. ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، بازو ٹوٹ جاتا ہے یا کوئی اور اعضاء ضائع ہو جاتا ہے تو وہ کیا ہم سے دیکھا جائے گا۔
آخرت میں حشر کے دن جب اللہ تعالی فرمائے گا کہ مجرمو الگ ہو جاؤ:
تو وہ کیا ہم سے دیکھا جائے گا؟؟؟ نہیں بھائی، وہاں پہ کچھ بھی نہیں دیکھا جائے گا۔ بقول شاعر:
کچھ خوف خدا کیجئے اس طرح نہ چلیے
سو بار تو اس چال پہ تلوار چلی ہے
یہ خوف خدا ہی ہے جو بندے کو گناہوں سے دور رکھتا ہے اور انسان گناہ چھوڑ کر نیکی کی راہ پر آ جاتا ہے. یاد رکھیں، اگر خوف خدا انسان کے دل سے نکال دیا جائے تو پھر صرف گناہوں والی زندگی ہی رہ جاتی ہے۔ انسان کا دل گناہوں کی طرف لگ جاتا ہے، پھر اللہ تعالی انسان کی رسی کھلی چھوڑ کر آزماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کر لے گناہ جتنے تو نے کرنے ہیں آخر لوٹ کر تو تم نے میری طرف ہی آنا ہے۔
آخر جب انسان اللہ تعالی کی پکڑ میں یا کسی مصیبت میں آتا ہے تو اس کی زبان سے یہ کبھی نہیں نکلتا کہ یا ابو خیر، یا امی خیر، یا دوست خیر، چاچو مامو اس وقت اور کوئی بھی یاد نہیں رہتا اور زبان سے صرف یہی نکلتا ہے کہ یا اللہ خیر، یا اللہ بچانا۔
یہاں پر خوف خدا کی ایک مثال آپ کے ساتھ شیئر کرتا چلوں. میرے ایک کزن جو کہ دبئی میں ہوتے ہیں، بتا رہے تھے کہ ہم تین دوستوں نے ایک عربی کے گھر میں کچھ کام کیا. اس عربی کے ساتھ ہمارے 500 درہم فائنل ہوئے تھے۔ جب ہم نے کام جلدی ختم کر لیا تو اس نے کہا کہ بھائی میں تو آپ لوگوں کو 300 درہم دوں گا کیونکہ یہ کام تھا ہی تھوڑا. اسی لیے تو آپ لوگوں نے جلدی ختم کر لیا ہے۔ ہم نے اس کے ساتھ بہت زیادہ بحث کی لیکن اس نے ہمیں تین سو درہم ہی دے کے گھر سے بھیج دیا۔
اس کے بعد بھی کئی دفعہ آتے جاتے ہم اس کو پھر بھی کہتے رہتے تھے کہ بھائی ہمارا 200 درہم دے دو لیکن بے سود۔ ایک دن ہمارے ایک اور دوست ہمارے ساتھ گئے، انہوں نے عربی سے کہا کہ بھائی ان کے بقایا 200 درہم دے دو. وہ نہیں مانا تو اس ہمارے دوست نے عربی سے کہا کہ ٹھیک ہے یہ میری شکل یاد رکھ لو، انشاءاللہ اب قیامت کے دن ہی ملاقات ہوگی۔ قیامت کا سننا ہی تھا کہ عربی کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کی کیفیت ہی بدل گئی۔ اس کے بعد وہ کہتا رہا کہ آپ لوگ پیسے لے جائیں لیکن ہم واپس روم پہ آگئے۔ پھر وہ ہمیں بار بار کال کرتا تھا کہ یار اپنے پیسے لے جاؤ. آخر ہم نے ایک دن جا کر اس سے پیسے لے لیے۔
تو دوستو، اس کو کہتے ہیں خوف خدا اور آخرت کا ڈر۔ اللہ تعالی نے آج ہمیں زندگی بخشی ہوئی ہے اور ہمارے پاس وقت ہے. اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں، گناہوں سے توبہ کریں اور نیک کاموں کی طرف اپنی زندگی کو گامزن کر لیں۔
آکر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے دلوں میں آخرت کا ڈر پیدا کرے، گناہوں سے بچنے اور نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین.
(مختار چوہان، چنیوٹ)


