زکٰوۃ ایک اہم فریضہ ۔ مختار چوہان

ہمارے مذہب اسلام میں زکوۃ ایک اہم فریضہ ہے۔ قرآن پاک میں اسلام کے پہلے رکن نماز کے بعد زکوۃ ہی کو درجہ دیا گیا ہے۔ زکوۃ ایک مالی عبادت ہے اور اس کے لغوی معنی پاک ہونا ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو روح اور دل کا میل صاف کرتی ہے۔ زکوۃ جہاں اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا اعتراف ہے وہاں اس کا شکر بجا لانے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو کہ جہنم کے عذاب سے بھی نجات کا ایک ذریعہ بنتی ہے۔

قرآن کریم میں سورۃ توبہ کی آیت نمبر 34 میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ:

جو لوگ جمع کرتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو ان کو خوشخبری سنا دیں دردناک عذاب کی۔

سورۃ توبہ ہی کی آیت نمبر 60 میں اللہ تعالی نے یہ بھی واضح فرما دیا ہے کہ کن کن لوگوں کو زکوۃ دینی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ:

صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور عاملوں کے لیے (زکوۃ جمع کرنے والے) اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر پر خرچ کرنے کے لیے, یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا, کمال حکمت والا ہے۔

اب یہاں پر یہ بھی بتاتا چلوں کہ صدقات دو قسم کے ہوتے ہیں. نفلی صدقات اور فرض صدقات. فرض صدقات میں سب سے پہلے زکوۃ ہےاور نفلی صدقہ آپ سب کو دے سکتے ہیں۔ لیکن فرض صدقات صرف مسلمانوں کے لیے ہیں۔ زکوۃ صرف مسلمان کو ہی دے سکتے ہیں اور مسلمان سے ہی لے سکتے ہیں۔

زکوۃ کی بات ہو رہی ہے تو زکوۃ چونکہ فرض ہے اور اللہ کا حکم ہے۔ اب جو لوگ صرف خیرات اور نفلی صدقات ہی کرتے ہیں اور کہتے پھرتے ہیں کہ میں ہر سال بہت زیادہ خیرات کرتا ہوں، صدقات دیتا ہوں۔ نفل صدقات و خیرات اپنی جگہ لیکن یہ بات یاد رکھیں، کہ زکوۃ میں اللہ کا حکم ہے اور اللہ کی مرضی ہے اور یہ جو آپ صدقات و خیرات دے رہے ہیں یہ آپ کی اپنی مرضی ہے. آپ اللہ کے حکم اور فرض سے انکاری ہیں۔

ایک بات ذہن میں رکھیں کہ آپ اگر زکوۃ نہیں دیتے تو اسی سال میں کوئی نہ کوئی مصیبت، بیماری یا کوئی ایسا نقصان ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے زکوۃ جتنے ہمارے پیسے ہمارے مال سے نکل ہی جاتے ہیں اور وہ ہم خاموشی سے برداشت کر لیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک کی سورتہ توبہ میں ہی ان آٹھ زکوۃ کے حقدار لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے جن میں فقراء، مساکین اور عاملین زکوۃ بھی شامل ہیں یعنی وہ زکوۃ سے تنخواہ بھی لے سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام میں زکوۃ ادا کرنے کا جو نصاب دیا گیا ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ کسی کے پاس اگر صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولے سونا اور چاندی ہو تو ساڑھے باون تولے چاندی، یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر رقم یا سامان تجارت ہو، یہ سب ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے برابر بنتی ہو۔ اس مقدار میں سونا ہو یا چاندی ہو یا پھر سونے اور چاندی کی اس مقدار کے برابر مالیت ہو اور وہ پورا ایک سال انسان کے پاس محفوظ رہی ہو تو اس مال پر ڈھائی فیصد زکوۃ دینا لازمی ہے۔ مثلا اگر ایک لاکھ روپے ہیں تو ان پر 2500 روپے زکوۃ ہوگی۔

اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اور اس کے علاوہ احادیث مبارکہ میں بھی زکوۃ ادا کرنے کی بے حساب فضائل و برکات بیان کی ہیں:

1. زکوۃ ادا کرنا اللہ تعالی کی رحمت کا باعث ہے۔
2. خوف و غم سے نجات ملتی ہے، نقصانات سے بچاؤ ہوتا ہے اور مال کا شر دور ہوتا ہے۔
3. زکوۃ ادا کرنے سے مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔
4. زکوۃ انسان کو گناہوں سے پاک کر دیتی ہے اور جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے چھٹکارے کا باعث بنتی ہے۔
5. زکوۃ اللہ تعالی کے غضب ناراضگی اور بری موت سے بچاتی ہے اور اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ احادیث مبارکہ میں جہاں زکوۃ ادا کرنے کے فائدے اور برکات بیان کی گئی ہیں وہاں زکوۃ ادا نہ کرنے پر بہت سخت سزائیں بھی بیان کی گئی ہیں۔ اس لیے کوشش کریں کہ ہر سال نفلی خیرات و صدقات کے ساتھ ساتھ زکوۃ ادا کرنے کا خصوصی اہتمام کریں۔ اور اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اندازے سے بھی زکوۃ نہیں ہوتی اس لیے اپنے مال کا صحیح صحیح حساب کر کے پھر زکوۃ ادا کریں۔

میں نے اپنی اس تحریر کے ذریعے زکوۃ کے چند اہم اور ضروری مسائل آپ تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی سب مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی زکوۃ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین

(مختار چوہان، چنیوٹ)