ظالم باپ ۔ مختار چوہان
*ظالم باپ
(ایک رُلا دینے والی حقیقت)*
صبح کی اذان کی آواز گونجی تو ایک بوڑھا سا وجود چارپائی سے ہڈیوں کی چڑچڑاہٹ کے ساتھ اٹھا۔ نیند جیسے برسوں کی تھکن میں دبی ہو، لیکن پھر بھی وہ شخص جاگا… کیونکہ اسے سونا کبھی نصیب ہی کہاں ہوا تھا۔ اُس کا جسم کہتا تھا کہ اب آرام کر، لیکن ضمیر چلاّتا تھا کہ گھر والوں کی ضرورتیں رُکی نہیں ہوتیں۔
جس گھر میں سب سوئے پڑے تھے، وہاں صرف وہ ایک جاگا۔ نل کے نیچے جھک کر منہ دھویا تو ٹھنڈے پانی نے ہاتھوں میں جمی دراڑوں میں گھس کر چیخیں نکلوائیں۔ لیکن ان چیخوں کا گواہ کوئی نہ تھا۔ اس نے پرانے جوتے پہنے، قمیص کے بٹن بند کیے، اور خاموشی سے دروازہ کھول کر گھر سے نکل گیا۔ اس کے جانے سے نہ کوئی بیدار ہوا، نہ کسی نے پوچھا کہ ناشتہ کرو گے؟ نہ کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ دن بھر کا رزق کمانے والا آج کیسا ہے۔
وہ سارا دن محنت کرتا رہا۔ کبھی اینٹ اٹھائی، کبھی بوری، کبھی لوگوں کی جھڑکیاں سنیں۔ “اوئے! کام ڈھنگ سے کر!”، “تم جیسے مزدوروں کی وجہ سے سب کچھ خراب ہوتا ہے!”… اور وہ سر جھکائے سب کچھ سہتا رہا، کیونکہ اُسے پتہ تھا کہ جھڑکیاں صرف لفظوں کی ہوتی ہیں، غربت تو پوری روح پر زخم دیتی ہے۔
شام کو جب وہ گھر واپس آیا تو جوتوں میں مٹی، کپڑوں میں پسینہ، اور چہرے پر صرف تھکن نہیں بلکہ بےبسی بھی تھی۔ دروازہ کھولا تو بچوں کی ہنسی کی آوازیں آئیں… لیکن یہ ہنسی اُس کے لیے نہیں تھی۔ وہ ایک طرف کھسک گیا۔ کھانے کی پلیٹ الگ رکھی گئی، سب مل کر کھا رہے تھے اور وہ، گھر والوں کے ساتھ رہ کر بھی، اکیلا کھا رہا تھا۔
کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے کے کونے میں بیٹھا، دیوار سے ٹیک لگا کر کچھ دیر بچوں کی آوازیں سنتا رہا۔ کبھی بیٹے موبائل پر ویڈیوز چلا کر ہنستے، کبھی بیٹی ماں سے ضد کرتی، اور ماں شفقت سے سمجھاتی۔ وہ کچھ کہنا چاہتا، کچھ سکھانا چاہتا، لیکن اب وہ گھر کا فرد کم اور ایک سائے کی مانند زیادہ بن چکا تھا۔
ایک دن بیٹا کالج سے آیا اور غصے سے بولا:
“ابا! آپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟ آپ نہ ہمیں اچھے سکولوں میں پڑھا سکے، نہ کوئی بہتر سہولت دے سکے۔ فلاں کا بیٹا نمل یونیورسٹی میں ہے، کسی کا بچہ آکسفورڈ میں پڑھ رہا ہے، اور ہم؟ ہم تو سرکاری سکولوں میں دھکے کھاتے رہے!”
باپ نے نظریں جھکا لیں۔ اسے وہ دن یاد آ گیا جب اس نے مزدوری کے بعد تین دن بھوکا رہ کر کتابیں خریدی تھیں، جب بیٹے کے جوتے پھٹے تو اپنے جوتے بیچ کر نئے لیے تھے۔ وہ بول سکتا تھا، چیخ سکتا تھا، لیکن اُس نے صرف مسکرا کر کہا:
“بیٹا! جو میں کر سکا، وہ سب تمہارے لیے ہی تھا۔”
لیکن یہ الفاظ بھی شاید اب بیکار ہو چکے تھے۔ ماں بیٹے کے ساتھ ہو گئی، بولی:
“بچے ٹھیک ہی تو کہتے ہیں۔ آپ نے کبھی وقت دیا، نہ سہولتیں۔ ہم نے جتنی زندگی گزاری، کمیوں میں گزاری۔”
وہ شخص جو ساری زندگی “کوشش” کرتا رہا، آج “ناکام” کہلا رہا تھا۔ وہ جو سارا دن ذلت سہہ کر، عزت کا سامان لاتا تھا، آج بےعزت سمجھا جا رہا تھا۔
رات کو سب سو گئے۔ بیوی بچوں کے ساتھ ایک کمرے میں، اور وہ، باہر والے کمرے میں، جہاں پنکھا بھی بمشکل چلتا تھا۔ پرانی دری پر لیٹ کر وہ چھت کو تکتا رہا۔ آنکھوں سے نیند روٹھ چکی تھی۔ دل جیسے روز کچھ کھو دیتا تھا، اور دماغ میں وہی جملے گونجتے رہے:
“آپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے؟”
کاش وہ یہ بتا سکتا کہ اُس نے اپنی نیندیں، خواہشیں، جوانی، اور صحت سب کچھ ان کے لیے قربان کیا۔ وہ لمحے جب خود بیمار ہو کر بھی دوا نہ خرید سکا، تاکہ بیٹی کے بخار کا علاج ہو جائے۔ وہ راتیں جب مزدوری کے بعد بھوکا سویا تاکہ بیٹے کا اسکول فیس جمع ہو جائے۔
کمرے کے دروازے بند، دلوں کے دروازے بند…
ایک وقت ایسا آیا جب گھر میں اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ رہا۔ صبح وہ جاتا، شام کو آتا، لیکن جیسے دیواروں کے درمیان ایک سایہ ہو… کوئی وجود نہ ہو۔
پھر ایک دن… اُس نے صرف ایک جملہ سنا:
“آپ کو حق نہیں ہے ہمیں ڈانٹنے کا۔ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟”
اور باپ چپ رہا۔ نہ غصہ، نہ آنکھ میں آنسو، بس ایک تھکا ہوا سانس، جیسے ساری ہار مان لی ہو۔
پھر وقت گزرتا گیا…
اور ایک دن… وہ واقعی خاموش ہو گیا۔ نہ کسی کو آواز دی، نہ شکوہ کیا… بس سو گیا… ہمیشہ کے لیے۔
بیٹے نے آ کر جھنجھوڑا… لیکن وہ تو جا چکا تھا۔
جنازہ اُٹھا۔ لوگ آئے، سب نے کہا:
“بہت نیک آدمی تھا۔ بڑی محنت کی اس نے۔”
بیٹے کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ ماں بھی چپ تھی، کیونکہ اس کا وہ ساتھی، جسے وہ ہمیشہ سرد رویے سے دیکھتی رہی، آج ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا تھا۔
کمرے میں وہ جوتے، وہ ٹوٹی گھڑی، وہ پرانا پرس… سب کچھ گواہ بن چکے تھے کہ ایک باپ نے سب کچھ لٹا دیا، صرف “ظالم” کہلانے کے لیے۔
اب ہر دعا ادھوری، ہر فقرہ بوجھ بن گیا ہے۔ اور دل کے کسی کونے میں ایک خلاء رہ گیا ہے…
جو صرف “باپ” پورا کر سکتا تھا۔
یہ تحریر اُن تمام باپوں کے نام ہے
جو سارا دن جلتے سورج تلے پسینہ بہاتے ہیں،
تاکہ ان کے بچوں کا چہرہ مسکرا سکے…
لیکن آخر میں “ظالم” کہلا کر خاموش ہو جاتے ہیں۔
(مختار چوہان، چنیوٹ)


