مختلف نظام حکومت کا تقابلی جائزہ ۔محمدعمر لیاقت

آج کل مُلکِ پاکستان میں سردی اور سیاسی گہماگہمی روز بروز بڑھتی جارہی ہے_ موضوع کے اعتبار سے ہم سیاسی گہماگہمی اور اس کی در پردہ وجوہات کو اپنے موضوع میں زیرِ بحث لائیں گے_جیسا کہ ہم سب کے علم میں ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مُلک میں عام انتخابات کی تاریخ 8 فروری(جمعرات) دے رکھی ہے_اسی کے تناظر میں سیاسی سرگرمیاں بھی پورے زور و شور سے جاری ہیں_سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی اپنے عروج پر ہے_مختلف سیاسی جماعتیں اپنا اپنا منشور لے کر عوامی عدالت میں پہنچ چکی ہیں_ہر کوئی خود کو دوسروں سے بہتر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کررہا ہے_ہر 5 سال کے بعد ہمیں ایسی ہی سیاسی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے جہاں ہر کوئی زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے قومی یا صوبائی اسمبلی میں پہنچنا چاہتا ہے_

مختلف سیاسی پارٹیوں کا قومی/صوبائی اسمبلی تک کا یہ سفر عوامی عدالت سے ہوکر گُزرتا ہے جہاں عام عوام اپنا حقِ رائے دہی(ووٹ) استعمال کرتے ہوئے اپنے ان نمائندوں کا انتخاب کرتی ہے_ووٹ ہر شہری کا جمہوری اور آئینی حق ہے_اس حق کو مُختلف طرزِ حکومت میں الگ الگ انداز سے لاگو یا سلب کیا جاتا رہا ہے_ میری اس تحریر کا *مقصد* آپ کو انہی نظامِ حکومت اور ان کے در پردہ عناصر سے روشناس کرانا ہے تاکہ آپ ان حکومتی نظاموں کو بہتر طریقے سے سمجھ کر آئندہ آنے والے انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی(ووٹ) صحیح معنوں اور بھرپور طریقے سے استعمال کرسکیں_

*پاکستان کا نظامِ حکومت:-*
جب سے مُلکِ پاکستان معرض وجود میں آیا ہے تب سے کئی حکمرانوں نے اپنے اپنے انداز سے اِس پر حکومت کی ہے_اِن حکمرانوں کو اس کا حق زیادہ تر عام عوام ہی دیتی آئی ہے لیکن چند ادوار ایسے بھی گُزرے ہیں جہاں عوام کے حقِ رائے دہی(ووٹ) کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکمرانی کی گئی_ پہلے والے نظام (حقِ رائے دہی کا استعمال) کو *”جمہوریت”* کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ دوسرا نظام جس میں عام عوامی رائے/انتخاب کو یکسر مسترد کردیا جائے اسے *”آمریت”* کا نظام کہا جاتا ہے_ پاکستان میں آج تک انہی دو نظامِ حکومت کے درمیان جنگ چلی آرہی ہے_ ان دونوں کے بالمقابل اسلامی سیاسی نظام میں *”خلافت”* کو بنیادی حیثیت حاصل ہے_اس نظام میں اسلامی اصولوں اور اقدار کو سب سے اعلیٰ درجے پر رکھا اور لاگو کیا جاتا ہے_آئیے اب ہم ویسع تناظر میں ان تینوں نظامِ حکومت کا بغور جائزہ لیتے ہیں تاکہ ہم حقیقی نظامِ حکومت کو پہچان کر اس کا نفاذ ممکن بنا سکیں!!!

1- *جمہوریت/جمہوری نظامِ حکومت:-*
*جمہوریت* کیلئے انگریزی زبان میں *Democracy* کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے_ یونانی زبان میں *Demo* “عوام” اور *cracy* “حاکمیت” کو کہا جاتا ہے_ عربی زبان میں اس کیلئے *”دیمقراطیہ”* کا لفظ استعمال ہوا ہے_جمہوریت سے مُراد ایسا نظامِ حکومت یا طرزِ حکومت ہے جس میں عوام کے “ووٹ” سے منتخب شُدہ نمائندے حکومت کے مختلف امور چلانے کے اہل ہوتے ہیں_یونانی مفکر *ہیروڈوٹس* بے جمہوریت کو اس انداز سے بیان کیا ہے:
*”جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں_”*
سابق امریکی صدر *ابراہم لنکن* کا قول ہے:
*”Government of the people, by the people, for the people.”*

یعنی *”عوام کی حاکمیت, عوام کے ذریعہ سے اور عوام پر”*

اس طرزِ حکومت میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں جنہیں “ووٹ” کے ذریعے سے منتخب کیا جاتا ہے_ اِس نظام کو *”عوامی حکمرانی”* کا نظام بھی کہا جا سکتا ہے_

1.1- *جمہوریت کی اقسام:-*
جمہوریت کی دو بڑی اقسام بیان کی جاتی ہیں:

١) *بلا واسطہ جمہوریت*
۲) *بالواسطہ جمہوریت*

ان کا مختصر سا تعارف درج ذیل سطور میں بیان کیا جاتا ہے:

١) *بلاواسطہ جمہوریت:*
جمہوریت کی اس قسم میں فیصلہ سازی کا حق براہِ راست عوام کے پاس ہوتا ہے لیکن ایسا نظامِ حکومت صرف چند صورتوں میں ہی چل سکتا جن میں سےدو یہ ہیں کہ جہاں یہ نظام قائم کرنا ہو وہاں لوگ کافی کم تعداد میں ہو یا اس جگہ /ریاست کا رقبہ کم ہو_اِس نظامِ جمہوریت میں لوگوں کا ایک جگہ اکٹھے ہو کر کسی ایک بات پر اتفاق کرنا ضروری ہوتا ہے_قدیم یونان میں ایسا ہی طرزِ حکومت پایا جاتا تھا اور موجودہ دور میں یہ امریکا اور برطانیہ کے چند علاقوں تک محدود ہے_اگر آج کے اس افراتفری اور عدم برداشت کے دور کے تناظر میں بات کی جائے تو ایسے نظام کا چلنا بالکل ہی ناممکن ہے_اسی کیلئے *”جدید جمہوریت”* یا *”بالواسطہ جمہوریت”* کی بنیاد رکھی گئی_

۲) *بالواسطہ جمہوریت:*
اس نظامِ جمہوریت کے مطابق ہر شخص کو قانون سازی کی حق دینے کی بجائے چند نمائندوں کا انتخاب کرلیا جاتا ہے جو کہ ساری عوام کی نمائندگی کرتے ہیں_یہ نمائندے ووٹوں کے اعتماد پر ریاست کے مختلف امور سر انجام دیتے ہیں_ایسے نظام میں عوامی احترام کو بھرپور تقویت ملتی ہے کیونکہ اس میں ریاست کے مختلف کام خود عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے سے ہی پایۂِ تکمیل تک پہنچتے ہیں_
مگر بدقسمتی یہ ہے کہ یہی نمائندے پارلیمنٹ/اسمبلی میں پہنچ کر عوام کی ہی حق تلفی کے آلۂ کار بن جاتے ہیں اور اِن کے بنیادی حقوق کا بھی خیال نہیں رکھتے_اِس نظام کا چلنا صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوامی نمائندوں کا انتخاب *”صاف اور شفاف”* طریقے سے ہو اور قابل و محنتی لوگ ہی اسمبلی تک پہنچیں_

*1.2- جمہوری نظام کے چند بنیادی عناصر:*
جمہوریت میں قانون سازی کا اختیار *”پارلیمنٹ یا اسمبلی”* کے پاس ہوتا ہے_
مُلک کے انتظامی معاملات کو دیکھنے والے اداروں کو *”انتظامیہ”* کہا جاتا ہے جس کا سربراہ صدارتی نظام میں *”صدرِ مملکت”* اور پارلیمانی نظام میں *”وزیرِاعظم”* ہوتا ہے_
اسی طرح قانون کی تشریح اور اسے کے نفاذ کا اختیار *”عدلیہ”* کے پاس ہوتا ہے_مختلف قسم کے تنازعات کا حل کرانا بھی عدلیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے_
*پارلیمانی نظام* میں وزیرِاعظم کو ہٹانے کیلئے *”تحریکِ عدم”* لائ جاتی ہے_اس کی تازہ مثال ہم نے 8 ماہ قبل عمران خان کی صورت میں دیکھی_۹ اپریل۲۰۲۲ء کو آدھی رات میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلوا کر تحریک عدم اعتماد کامیاب کرائی گئی اور عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا_قومی اسمبلی کا اجلاس ١۰ اپریل ۲۰۲۲ء کی صبح ١۲:۰۲ پر ملتوی کردیا گیا_قومی اسمبلی میں یہ تحریکِ عدم اعتماد 174 ووٹوں سے منظور ہوئی_
ان سب باتوں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ جمہوریی نظام بذات خود عوامی حقوق کی پاسداری کا علمبردار ہے لیکن ہمارے چُنے گئے نمائندے اس نظام کے تشخص کو برقرار رکھنے میں ہمیشہ سے ناکام رہے ہیں_ضرورت اس امر کی ہے اس نظام کو بہتر سے بہترین طریقے پر چلانے کیلئے اہل اور قابل افراد کا انتخاب کرکے اسمبلیوں تک بھیجا جائے جو عام عوامی حقوق کا بھی اچھے سے خیال رکھیں اور مُلک کو مجموعی اور حقیقی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن کریں_

حصہ دوم آمرانہ نظام حکومت بھی پڑھیں