کشمیر جنت نظیر ۔ آصفہ نور
کشمیر
یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
اور جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی
کشمیر بر صغیر کی وہ جنت ہے جس کا نعم البدل پورے ایشیا میں کہیں نہیں ملتا-کشمیر کی اونچائیاں جتنی خوبصورت ہیں اس سے زیادہ خوبصورت وہاں کی وادیاں قدرت کا شا ہکا ر ہیں-کشمیر کا دل فریب موسم،وہاں کی ہریالی،وہاں کی برف پوش پہاڑیاں اور وہاں پر بسنے والے لوگ یہاں تک کہ کشمیر کے جنگلات کے سوکھے ہوئے درخت بھی اتنے خوبصورت ہیں کہ دیکھنے کے بعد بس زبان پر ایک کلمہ جاری ہوتا ہے
“کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے”۔
کشمیر کی خوبصورتی کے بارے میں جتنی بھی باتیں کی جائیں وہ کم ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے اس خطہ سرزمین کو دنیا سے الگ ہی حسن عطا کیا ہے-اس سرزمین کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بہت سی خواتین کے درمیان عروسی لباس میں ملبوس کوئی خو برو دلہن-کون تھا وہ شخص جس نے اس حسین و جمیل دلہن کو خدا کے چھپے ہوئے خزانوں سے نکال کر دنیا کے سامنے پیش کر دیا-اور اس سرزمین کو جنت نظیر بنا دیا-
یہ سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کی وادی کیسے وجود میں ائی؟اس کا نام کشمیر کیوں رکھا گیا؟اپنے نام کی طرح کشمیر کا تاریخی پس منظر بھی بہت خوبصورت ہے-
ایک روایت کے مطابق لفظ کشمیر “کاش اور میر”کامرکب ہے-اس کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں اللہ تعالی کے ایک بہت ہی پیارے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام تھے جن کو اللہ تعالی نے بیک وقت دو عہدوں نبوت اور بادشاہت سے نواز رکھا تھا اور صرف انسان ہی نہیں بلکہ بہت سی دوسری دنیاوی مخلوقات کے ساتھ ساتھ غیبی مخلوقات یعنی جنات اور پریاں بھی حضرت کی رعايا میں تھیں-اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام پر اپنے معجزات کے بے بہا خزانے کھول رکھے تھے کہ جن کا ذکر سن کر انسان حیران اور پریشان ہو جاتا ہے اور انہی معجزات میں سے ایک بہت بڑا معجزہ اپ کا تخت شاہی تھا جو کہ بحکم خدا کے اشاروں پر پرواز کرتا تھا-اور اپ اس تخت پر بیٹھ کر دنیا کی سیر کیا کرتے تھے-
ایک دفعہ اپ اپنے معجزاتی تخت پر محو پرواز تھے کہ اچانک اپ کی نظر وسیع و عریض پانی کے زخیرے میں موجود پہاڑ کی ایک خشک چوٹی پر پڑی-اس خطے کو دیکھ کر اپ نے تخت کو اس کے اوپر اترنے کا حکم دیا چنانچہ جب تخت اتر گیا تو اپ نے اس چوٹی پر کھڑے ہو کر جب اس پاس کا جائزہ لینا شروع کیا تو اپ کو حد نظر پانی ہی پانی دکھائی دیا- آپ علیہ السلام نے جب یہ خوبصورت منظر دیکھا اپ بہت خوش ہوئے-اور پھر اچانک سے وہیں وزرا کے ساتھ مشورے کرنے کے لیے ایک میٹنگ تشکیل دی اور اس میٹنگ میں فرمایا کہ اگر اس جھیل کے پانی کو خارجِ کر دیا جائے تو اس کی طے سے بہت ہی حسین و جمیل اور زرخیز وادی نمودار ہوگی اور اس وادی میں انسانوں کی آبادی ممکن ہو سکے گی-
حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ ارادہ دیکھ کر پہلے تو تمام وزراء نے خوشی خوشی اپ کی ہاں میں ہاں ملا دی پھر اچانک سے ہی ایک سوال پیدا ہوا اس سمندر نما جھیل سے پانی نکالے گا کون؟
جیسے کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی رعایا میں دنیاوی اور غائبی دونوں قسم کی مخلوقات شامل تھیں-اور اس میٹنگ میں بہت سی مخلوقات کے سردار بھی موجود تھے-اور انہی سرداروں میں انہی سرداروں میں سے جنات کا سردار کاش جن بھی موجود تھا اور ساتھ میں پریوں کی سردار ملکہ جس کا نام میر پری تھا وہ بھی موجود تھیں-لہذا جنات کا سردار جو کہ ملکہ پرستان کا عاشق تھا موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میدان میں اگیا-اور کہنے لگا کہ میں یہ فریضہ سر انجام دینے کے لیے تیار ہوں لیکن یہ کام انجام دینے سے پہلے اللہ کے نبی کے سامنے میری ایک فرمائش ہے-حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
کہ بولو تمہاری کیا شرط ہے؟
تو کاش جن کہنے لگا کہ اگر میں اس جھیل سے پانی نکالنے میں کامیاب ہو گیا تو اپ میرا عقد میر پری کے ساتھ کر دیں گے-لہذا حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی یہ شرط قبول کر لی اور اس کو کام انجام دینے کا حکم دیا-
حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ اعلان سنتے ہی کاش نے دوڑ لگا دی کہ جتنا جلدی ہو سکے وہ جھیل کو خشک کر دے- چنانچہ کچھ ہی دیر میں کاش نے اپنے طلمساتی عمل سے بارہ کا پہاڑ کاٹ کر اس میں سے پانی کا راستہ بنا دیا-دیکھتے ہی دیکھتے اس میں سے ایک حسین و جمیل وادی نمودار ہو گئی-
اس واقعہ کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے میر پری کی شادی کاش جن کے ساتھ کرا دی اور پھر کاش اور میر کی نسبت سے ہی اس جگہ کا نام کاش میر رکھ دیا-ہیں -جو کہ بعد میں کشمیر کے نام سے مشہور ہوا-
سری نگر میں کو ہر مکھ کی چوٹی پر تخت سلیمان اسی واقعے سے منسوب ہے اور چودہویں صدی عیسوی میں جب سید علی ہمدانی کشمیر تشریف لے گئے تو شاید انہوں نے اسی وجہ سے کشمیر کو باغ سلیمان کا نام دیا-ان باتوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خطہ کشمیر اپنی تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے کتنی عظمت اور وسعت اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے-
آصفہ نور
دارِارقم سکول چنیوٹ


