معاشرتی تربیت ۔ حرا نثار
”معاشرتی تربیت “
مختلف انسانوں کے گروہوں کا مل کر رہنا ایک معاشرہ کہلاتا ہے۔
زمانہ قدیم میں لوگ پہاڑوں اور جنگلوں میں رہتے تھے اور شکار کر کے اور جنگلی پھل کھا کر اپنا گزارا کرتے تھے۔زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے فصلیں اگانا شروع کر دیں اور اپنی آبادیاں قائم کر لیں۔
وقت بدلتاگیا اور لوگ اپنی ضروریات پورے کرنے کے لیے ایک دوسرے پر انحصار کرنے لگے۔
لوگوں نے کھیتی باڑی شروع کر دی اس طرح مختلف قسم کی فصلوں کی کاشت ہونے لگیں۔پہیے کی دریافت کے بعددنوں کا سفر گھنٹوں میں ہونے لگا۔
اس طرح مختلف قسم کے لوگوں کے گروہ مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔
اس طرح کسی مخصوص علاقے میں رہنے والے لوگوں نے اپنے اصول و ضوابط قائم کر لیں۔معاشرے کے سربراہ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنے مطابق معاشرے میں قانون نافذ کرے۔
جب انسان نے تجربات اور مشاہدات کرنا شروع کیے تو اس نے دنیا میں چھپے رازوں پر سے پردہ اٹھایا۔ان تجربات اور مشاہدات کو تعلیم کا نام دیا گیا اورٹیکنالوجی کی ایجاد ہوئی۔
قدیم زمانے کا بچہ اور آج کا بچہ بہت مختلف ہے۔پہلے زمانے کا بچہ اپنا وقت کھیل کود میں گزارتا تھا جبکہ آج کے بچے کو بہت سے اداروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس طرح بچے ماں باپ کے علاوہ بھی بہت سے مختلف ماحولوں میں پروان چل رہی ہیں۔یہ ماحول انہیں ایک اچھا انسان بنانے کے علاوہ ان کی تربیت بھی کر رہے ہیں۔
معاشرتی تربیت سے مرادکسی فرد کو زندگی کے آداب عقائد اور اقتدار سے آگاہ کر کے معاشرے میں کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔ انسان معاشرے سے کٹ کر اپنی زندگی نہیں گزار سکتا اس کے لیے معاشرتی تربیت کا حصول ضروری ہے۔
تربیت کسی بھی فرد کی صلاحیتوں کی نشونما کرکے اس کا ترقی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔
اس طرح معاشرتی تربیت کو تعلیم کا اہم ترین مقصد قرار دیا جاتا ہے۔
کوئی بھی معاشرہ معاشرتی تربیت کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا اور معاشرے میں بہت سی مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں ۔ہر فرد میں معاشرتی شعور کی بیداری بہت ضروری ہے اس کو عملٍ علم کا حصہ بنایا جائے اس کے بغیر کوٸی بھی معاشرہ قاٸم نہیں ہوسکتا اور انتشار کا شکار ہوجا تا ہے۔
کسی بچے یا فرد کی معاشرتی تربیت کے لیے معاشرتی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے ان اداروں کے بغیر کوئی بھی بچے یا فرد کو معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل نہیں بنایا جا سکتا۔
گھر
گھر بچے کی معاشرتی تربیت کا پہلا ادارہ ہے ۔ماں کی گود کو اولین تربیت گاہ قرار دیا جاتا ہے ۔انسان گھر ہی سے اپنی گروہی زندگی کا آغاز کرتا ہے اس کی ضروریات اسےاپنے گھریلو ماحول سے مطابقت پر مجبور کرتی ہیں۔ گھر میں وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے یہ محتاجی بچے میں معاشرتی کردار کی نشونما کا باعث بنتی ہے۔
آج کل بچوں کو گھر میں رہنے کا وقت ہی نہیں ہوتا ۔اگر گھر میں موجود ہوتے ہیں تو ان کا زیادہ تر دھیان موبائل میں ویڈیو گیمز کھیلنے میں ہوتا ہے۔ بہن ،بھائی ایک دوسرے سے بات ہی نہیں کرتے ۔ماں باپ کے پاس اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں ہوتا وہ موبائل جیسا ہتھیار ان کے ہاتھوں میں پکڑا دیتے ہیں تاکہ بچے تھوڑا سا مصروف ہو جائیں ۔
ہمسائے:
گھر کے بعد بچہ ہمسایوں اور محلے سے متعارف ہو کر ان سے معاشرتی رابطہ قائم کرتا ہے وہ اپنے ہم عمر بچوں سے کھیلتا ہے اور مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتا ہے۔
اس طرح بچے کی معاشرتی نشونما میں محلے کا ماحول بھی اثرات مرتب کرتا ہے دوست کی صحبت میں وقت گزرنے کے باعث بچہ لاشعوری طور پر ان کی اچھی یا بری عادات اپنانا شروع کر دیتا ہے ۔
جبکہ آج کل کے دور میں بچوں کو پتہ نہیں ہوتا ان کے ہمسائے میں کون ہیں؟ اور ان میں کتنے بچے رہتے ہیں ؟بچے ہمسائیوں کے بچوں کے ساتھ کھیلتے نہیں ہیں اور زیادہ تر گھر میں موجود موبائل فون پر ویڈیو دیکھ کر اپنا وقت گزارتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ:
ذرائع ابلاغ سے مراد وہ وسائل اور طریقے ہیں جن کے ذریعے معلومات و پیغامات ،نظریات و خیالات دوسرے تک پہنچائے جاتے ہیں۔ ان ذرائع میں ریڈیو، ٹیلی ویژن، موبائل انٹرنیٹ وغیرہ زیادہ اہم ہیں ماہرین کے خیال میں یہ ذرائع بچے کی معاشرتی نشونما پر اثر انداز ہو کر اس کے معاشرتی کردار کو خاص رخ میں ڈھالتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی ایجاد کے بعد ہر گھر میں بچوں کے پاس موبائل فون ہے اور اس پر انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔
موبائل فون پر بچے مختلف قسم کی ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں جس میں پب جی بہت اہم ہے اس میں بچوں کو لڑائی جھگڑا سکھایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ٹک ٹاک اور فیس بک نے بھی بچوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے۔مختلف قسم کی ویڈیوز دیکھ کے بچے ویسے بننے کی کوشش کرتے ہیں اور اصل میں وہ جو ہوتے ہیں وہ خود کوبھول جاتے ہیں۔
تعلیمی ادارے:
بچہ مدرسے کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہے ۔مدرسہ چھوٹے سماج کی حیثیت رکھتا ہے جو بڑے سماج کے لیے خام مال تیار کرتا ہے ۔اسے اعتبار سے مدرسہ معاشرے کا نمائندہ ہوتا ہے جو افراد کو معاشرتی اقدار سے آگاہ کر کے معاشرے کا مفید رکن بناتا ہے ۔مدرسہ میں ایسی سرگرمیوں کے اہتمام کیا جاتا ہے جو فرد کی معاشرتی نشونما کا باعث بنتی ہے۔مدرسہ ہی بچوں میں معاشرتی شعور بیدار کر کے انہیں معاشرتی تقاضوں کی تکمیل کے قابل بناتا ہے۔
آجکل کے دور میں تعلیمی ادارے اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ بچوں کو بہت اچھا انسان بنائیں۔
تعلیمی اداروں کہ یہ تقاضے ہوتے ہیں کہ وہ بچوں کو خوشگوار اور متوازن زندگی گزارنے کے قابل بنائیں۔
مدرسہ میں جذبہ جہاد اور جذبہ حب الوطنی پیدا کر کے اسے اسلامک معاشرے کی حفاظت کے لیے تیار کرتا ہے۔
مدرسہ بچوں میں تخلیقی صلاحیتیں پیدا کر کے معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے قابل بناتا ہے۔
اسلام ایسے تعلیمی اداروں کے قیام کا خواہ ہے جو بچوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہم کنار کر دے۔
مذہبی مقامات:
ہر انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار ہے۔ ہر مذہب کا اپنا نظام عبادت اور مخصوص مذہبی مقامات ہیں۔مذہبی مقامات معاشرے کے افراد کو اخوت، عدل، پابندی وقت اور مساوات کا درس دیتے ہیں۔ انہی عبادت گاہوں میں چھوٹے بڑے ،کالے گورے ،غلام اقا کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ اس طرح فرد کی معاشرتی تربیت ہوتی ہے اور وہ حقیقی روایات سے آگاہ ہو جاتا ہے ۔
مثال کے طور پر اسلامی نظام حیات میں مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔یہ نہ صرف ایک عبادت خانہ بلکہ ایک معاشرتی مرکز بھی ہے یہاں افراد نہ صرف اسلامی اقتدار سیکھتے ہیں بلکہ معاشرے میں کامیاب زندگی گزارنے کے عملی تربیت بھی حاصل کرتی ہیں اس اعتبار سے مسجد نہ صرف ایک مذہبی مقام ہےبلکہ افراد کی معاشرتی تربیت کا اہم ادارہ بھی ہے۔
دیگر معاشرتی ادارے۔۔۔ جاری ہے۔
تحریر: حرا نثار
( دار ارقم بوائز ہائی سکول، فیصل آباد روڈ ، چنیوٹ)


