دیگر معاشرتی ادارے ۔ حرا نثار

” معاشرتی تربیت ” کا بقیہ حصہ۔

دیگر معاشرتی ادارے
آج کل بہت سے ادارے ایسے ہیں جہاں مختلف افراد مل کر انسانیت کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

یہ ادارے کسی بھی فرد یا بچے کی معاشرتی تربیت کر کے اسے معاشرے کا اچھافرد بنانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

ہسپتال
آج کل کے دور میں جہاں ہر مرض کا علاج دریافت ہو چکا ہے وہاں حکومت نے بہت سے ہسپتال بھی قائم کیے ہیں۔بہت سے مریض ایسے ہوتے ہیں جو خود کفیل نہیں ہوتے اور وہ اپنا علاج خود نہیں کروا سکتے۔اس سلسلے میں حکومت ان کا علاج مفت کرواتی ہے۔

ان ہسپتالوں میں قابل ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں جو مریضوں کا علاج کرتے ہیں اس کے علاوہ بہت سے لوگ موجود ہوتے ہیں جو مریضوں کی خدمت کرتے ہیں۔ان کا کام مریض کی ضرورت کو پورا کرنا اور بہتر طریقے سے اس کی دیکھ بھال کرنا ہے۔

یتیم خانے
یتیم خانہ بچوں کا دوسرا گھر ہوتا ہے ۔دنیا میں بہت سے بچے ایسے ہیں جو بے گھر ہوتے ہیں اور ان کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ موجود نہیں ہوتی۔یہ سب بچے کسی نہ کسی وجہ سے ایسے ادارےکی تلاش میں ہوتے ہیں جہاں وہ محفوظ رہ سکے۔
یتیم خانے جہاں بچوں کو رہنے کے لیے جگہ دیتے ہیں وہاں ان کی تربیت بھی کرتے ہیں ۔ ان اداروں میں نہ صرف یتیم بچے پلتے ہیں بلکہ بہت سے ایسے لوگ جو اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر آتے ہیں وہ بھی یہاں پر رہتے ہیں۔

ایسے لوگ جن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا اور وہ کچھ عرصے کے لیے یہاں قیام کرتے ہیں وہ ہاں پر پہلے سے موجود لوگوں کے پر بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں اور وہاں پر موجود بچوں کے ذہن بدل جاتے ہیں اگر وہ ایک مجرم ہے تو بچے عادات پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔

ہاسٹل
تعلیمی اداروں کی کمی کی وجہ سے بہت سے بچوں کو گاؤں سے آکر شہروں میں رہنا پڑتا ہے۔اس وجہ سے وہ اپنے والدین سے دور ہوتے ہیں۔ہاسٹل بچوں کی تربیت پر بہت گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
اگر ہاسٹل کی مینجمنٹ ٹھیک ہو ادارے کے سربراہ اچھے ہوں اور بچوں کے اور افراد کے اوپر نظر رکھتے ہوں تب ہاسٹل کے ماحول کو محفوظ کہا جا سکتا ہے۔

جیل

جیل ایک ایسا معاشرتی ادارہ ہے جہاں مجرموں کو قید کرنے کی بجائے ان کی تربیت کی جاتی ہے۔
ایسے افراد جو کسی جرم کی وجہ سے جیل جاتے ہیں ان کی وہاں باقاعدہ تربیت کی جاتی ہے اور ان کو ایک بڑا مجرم بنایا جاتا ہے۔

جب ایک چھوٹا بچہ چوری کرتا ہے اور اس وجہ سے وہ جیل جاتا ہے۔تو وہاں کا ماحول اسے مجرم بنا دیتا ہے۔وہاں بہت سے پیشہ ور مجرم موجود ہوتے ہیں۔
ان کا رویہ ان بچوں اور افراد پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔

نتیجہ:

اس تحریر کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں بہت سے ادارے ایسے ہیں جو ایک فرد یا بچے کو تربیت دے رہے ہوتے ہیں۔اگر یہ ادارے اپنا کام بہتر طریقے سے سر انجام نہ دیں تو معاشرہ بدنظمی کا شکار ہو جاتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہمارا تعلق معاشرے کے کسی بھی ادارے سے ہو ہم اپنا فریضہ ایمانداری سے ادا کریں اور وہاں پر موجود تمام افراد یا بچوں کی بہتر تربیت کریں تاکہ وہ معاشرے کا بہترین فرد بن سکے۔

”اگر ہم باشعور ہو کر بھی شعور نہیں پھیلاتے تو یقین مانیں،ہم آنے والی نسلوں کے مجرم ہیں “۔

تحریر:حرا نثار( دارارقم بوائز کیمپس ،چنیوٹ)