اخلاقیات ۔ مختار چوہان

ناصر صاحب ایک آفس میں کام کرتے تھے اور ان کی بیوی ایک بہت ہی نیک اور پارسا خاتون تھیں۔ وہ کبھی گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں اور نہ ہی کسی غیر محرم کے ساتھ بات کرتی تھیں۔

ایک دن ناصر صاحب جب آفس سے گھر آئے تو ان کی بیوی ان کے سامنے رو پڑی. پوچھنے پر ان کی بیوی نے روتے ہوئے بتایا کہ آج میرے ساتھ ایک انہونی ہو گئی ہے۔ وہ یہ کہ آج جب دودھ والا آیا تو میں نے ہمیشہ کی طرح تھوڑا سا دروازہ کھول کر اس سے دودھ پکڑا۔

جب میں نے پیسے پکڑانے کے لیے دروازے سے ہاتھ باہر نکالا تو دودھ والے نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ یہ سب بتا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھیں کہ میں تو آج تک غیر ضروری گھر سے باہر نہیں نکلی اور نہ ہی میں نے آج تک کسی غیر محرم کے ساتھ بات کی ہے. آخر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟

ناصر صاحب کافی دیر سے اپنی بیوی کی باتیں سن رہے تھے اور شرمندگی سے اپنا منہ نیچے کیا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد ناصر صاحب نے اپنا منہ اوپر کیا اور بیوی کو چپ کرانے کی کوشش کرنے لگے۔ ان کی بیوی کی ہچکیاں جب تھوڑی کم ہوئیں تو وہ اپنے آپ کو سنبھال کر بولیں، آپ کیوں شرمندہ ہو رہے ہیں اور اپنا منہ مجھ سے کیوں چھپا رہے ہیں؟

ناصر صاحب شرمندہ سی آواز میں بولے، بیگم اس میں سارا قصور میرا ہے. آج آفس میں جب میری سیکرٹری مجھے کچھ فائلز دینے کے لیے آئی تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ آپ کا قصور وار وہ دودھ والا نہیں بلکہ میں ہوں۔

تو سامعین، آج کل سوشل میڈیا کے اس فاسٹ دور میں مرد حضرات خصوصا لڑکے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے گھروں میں بھی مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود گھنٹوں لڑکیوں سے فون پر باتیں کرتے ہیں، چیٹ کرتے ہیں، بازاروں میں، گاڑیوں میں، پارکوں میں بلکہ جہاں بھی موقع ملے، دوسروں کی ماؤں بہنوں اور بیوی بیٹیوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کرتے ہیں۔

یہاں پر ایک بات بتاتا چلوں کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا رد عمل ایک دن ضرور آتا ہے. آپ کسی کی بہن، بیٹی یا بیوی کے ساتھ اگر کوئی ذرہ بھر بھی غیر اخلاقی حرکت کرتے ہیں تو یاد رکھیں، یہ جو غیر اخلاقی کام آپ نے کیا ہے۔ وہ فلم آپ کے سامنے آپ کے مرنے سے پہلے ایک دن ضرور ریپیٹ ہوگی اور آپ وہ اپنی بہن، بیٹی یا بیوی کی صورت میں ضرور دیکھیں گے۔

ایک بزرگ بتا رہے تھے کہ میں ایک بس میں کہیں سفر پر جا رہا تھا۔ راستے میں ایک سٹاپ سے کالج اور سکول کے لڑکے اور لڑکیاں سوار ہوئیں۔ بس میں چونکہ رش بہت زیادہ تھا اس لیے پورے راستے میں لڑکوں نے لڑکیوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کیں۔ ان کی یہ حرکتیں دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے پیچھے جو بس آ رہی ہے اس میں شاید نہیں بلکہ یقینا ان لڑکوں کی بہنیں ہوں گی اور ان لڑکیوں کے بھائی۔ وہ ان لڑکیوں کے بھائی ان لڑکوں کی بہنوں کے ساتھ اسی طرح کی غیر اخلاقی حرکات کر رہے ہوں گے۔

ویسے یہاں پر ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں، اگر ہماری پوری زندگی پر ایک فلم بنائی جائے اور وہ فلم ہماری پوری فیملی یعنی بیوی، بچوں بہن بھائیوں اور والدین کے سامنے ایک بڑی سکرین پر چلائی جائے تو کیا ہم وہ سب کے سامنے دیکھ سکیں گے؟
نہیں ناں؟؟؟؟

تو پھر آج سے اپنے دل کے ساتھ یہ وعدہ کر لیں کہ آج سے اگر ہماری زندگی پر مووی بنائی جائے تو وہ نہ صرف ہم سب کے سامنے غرور اور فخر سے دیکھ سکیں بلکہ وہاں آخرت میں بھی ہم اللہ کے سامنے تسلی کے ساتھ کھڑے ہوں، جہاں پر آلریڈی ہماری پوری زندگی پر ایک فلم بن رہی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارا یہ اسلامی معاشرہ بھی اب اس گندگی کی طرف تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور زیادہ تر اس میں چھوٹی عمر کے بچے شامل ہیں۔

تو ضرورت اس بات کی ہے، کہ جہاں والدین اور حکومت کو بھی اس چیز پر کنٹرول کرنا چاہیے وہاں ہم سب کو بھی اس دنیا میں آنے کے اصل مقصد کے سبق کو بار بار یاد کرنا چاہیے۔ خصوصا والدین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے بچوں کی اخلاقیات پر توجہ دیں اور انہیں حلال و حرام کا فرق سمجھائیں۔ ورنہ شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال نے تو بہت پہلے ہماری ان غیر اخلاقی حرکتوں کی تصویر اس شعر کی صورت کھینچ دی تھی:

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا

(مختار چوہان، چنیوٹ)