ٹیچنگ کی اہمیت ۔ عائشہ مشتاق
ٹیچنگ یعنی پڑھانا علم کے سمندر ہی کا بہت بڑا حصہ ہے کیونکہ کوئی بھی کام استاد کے بغیر ادھورا اور نامکمل رہتا ہے ۔
بقول جان ڈیوی :
”ٹیچنگ تجربات کی مسلسل تعمیر نو کا نام ہے تعمیر نو کے اس عمل سے تجربات میں وسعت اور گہرائی پیدا ہو جاتی ہے ۔اور یہ تجربات فرد کے مستقبل کے تجربات کے لیے راہ عمل کا ذریعہ ہوتا ہے ۔“
اسلامی نقطئہ نظر سے تعلیم کا مقصد معاشرے کی نوخیز نسلوں کی تکمیل ذات، آداب معاشرت، اخلاق حسنہ اور صحیح تصوری کائنات کی ترتیب دینا ہے تاکہ انسان اپنے خالق و مالک یعنی رب کائنات کو پہچان سکے ۔شاہ ولی اللہ نے تعلیم کو خیر و شر میں تمیز کر کے خیر کو اپنانے اور شر کو دبانے کا عمل قرار دیا ہے ۔
ٹیچنگ اللہ تعالی کا پسندیدہ اور انبیاء کا پیشہ ہے ٹیچنگ کو اگر دیانت داری سے اپنا کر اس کا حق ادا کیا جائے تو روز قیامت اٹھنا بھی نیک بندوں کی صف میں ہوگا۔ ٹیچنگ ایک مقدس شعبہ ہے جس کے تقدس کا خیال رکھنا اس سے منسلک ہر شخص پر فرض ہے ۔ٹیچنگ سے ہی تمام شعبے تخلیق پاتے ہیں تربیت حاصل کرتے ہیں اور میدان عمل میں آتے ہیں ۔
ٹیچنگ پروفیشن کو خواہ کیسے بھی چنا گیا ہے اسے دل سے قبول کر لینا چاہیے محنت سے دیانت داری سے اس شعبے میں کام کیا جائے تاکہ جب آپ اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں تو آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
” پیغمبر تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور تم جو نہیں جانتے وہ سکھاتا ہے ۔“
ٹیچنگ پیغمبری شعبہ ہے اس کی اہمیت کا اندازہ قران و حدیث کی روشنی میں باآسانی لگایا جا سکتا ہے ۔
ارشاد نبوی ہے :
”بے شک میں استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔“
استاد کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ وہ ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء کرام کا جانشین اور وارث ہے ۔
“تعلیمی عمل کا مرکز و محور استاد ہی ہے ۔”
”سکندر اعظم کا باپ یونان کی ریاست مقدونیہ کا حکمران تھا لیکن سکندر اعظم نے بڑا نام پا کر شہرت حاصل کی سکندر اعظم نےتقریبا آدھی دنیا فتح کر لی تو سکندر اعظم سے کسی نے پوچھا کہ آپ باپ پر استاد کو کیوں ترجیح دیتے ہیں تو سکندر اعظم نے جواب دیا “کہ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا اور میرا استاد ارسطو مجھے زمین سے اٹھا کر آسمان پر لے گیا ۔“
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم کی اہمیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں :
”علم والوں کو دوسرے کے مقابلے میں ایسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر یقینا اللہ عزوجل اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کہ چونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلیاں تک لوگوں کے معلم کے لیے بھلائی کی دعا کرتی ہیں۔“
ٹیچنگ کو صدقِ دل سے قبول کر کے جتنا دلچسپی لے کر اس شعبہ میں کام کیا جائے اتنا زیادہ مزہ ہے اس کام میں ہر دن ایک نئی چیز سیکھنے کو ملتی ہے ۔ ایسا پیارا شعبہ اللہ نے چن لیا ہمارے لیے جس کے فوائد اور اہمیت اتنی ہے کہ آخرت میں انبیاء کے جانشین اور وارث ہوں گے ۔
“ٹیچنگ ایک مسلسل عمل ہے”۔
ٹیچنگ کو عبادت بھی کہا گیا ہے ٹیچنگ کو عبادت سمجھنے والے استاد ہر روز کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں سیکھنے کا عمل کبھی بھی نہیں رکتا۔استاد میں ہر روز کچھ نیا سیکھنے کی چاہ ہونی چاہیے استاد کو چاہیے کہ وہ ہر روز اپنے اپ کو پہلے سے بہتر کرنے کی کوشش کریں چاہے وہ بڑی کلاس کا ٹیچر ہے چاہے چھوٹی کلاس کا اسے اپنی فیلڈ میں مہارت حاصل کرنی چاہیے ۔
علم کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پہلی وحی عطا فرمائی وہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ جن کا موضوع بھی علم ہے لہذا جہاں کہیں سے بھی کوئی بات سیکھنے کا موقع ملے اس کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔
علم ایسا سمندر ہے جس کے کناروں کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ علم ہی انبیاء علیہ السلام کا ورثہ ہے بلا شعبہ علم جنت کے راستوں کا نشان ہے ۔استاد صرف طلبہ کو معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ ان کے شعور کو بھی بیدار کرتا ہے اور ان کی اخلاقی تربیت بھی کرتا ہے کسی بھی قوم کی ترقی کا راز قوم کے ہاتھ میں ہے قوموں کی ترقی میں استاد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔
بقول اقبال:
اٹھ کے اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے ہی دور کا آغاز ہے
تحریر : عائشہ مشتاق
دارِارقم سکول، چنیوٹ۔


