موت ایک حقیقت ۔ نایاب علی

“تعجب ہے اورہان مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کہوں تم سے” شازل نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو اورہان نے حیرانی سے اپنے والد کو دیکھا۔ “مگر بابا جانی” اورہان اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا تھا مگر شازل نے اسے خاموش کروا دیا۔ ” تم جس شخص کے بارے میں…

تیز دھوپ ۔ نایاب علی

“زندگی میں اکثر ایسے حالات ہوتے ہیں جب انسان کو تیز دھوپ بھی چھاؤں لگتی ہے اور کبھی کبھی ایسے حالات ہوتے ہیں کہ ٹھنڈی چھاؤں بھی چبھنے لگتی ہے۔ماں باپ سر پہ ہوں تو حالات پھر چاہے کچھ بھی ہوں انسان میں مقابلے کی ہمت اور حوصلہ رہتا ہے، اولاد جوان ہو اور پھر…

اندھیری رات ۔نایاب علی

اندھیری رات کالی اندھیری رات تھی اور طوفان تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ بجلی کی گرج مانو ایسا لگتا تھا کہ ابھی گری اور ابھی گری، ہر طرف خوف کا سماں تھا۔ سکندر کے اندر اور باہر ایک جیسا موسم تھا وہ سجدے میں زاروقطار بس روئے ہی جا رہا…

بلند سوچ ۔ فاکہہ

بلند سوچ – ”بیٹا! میں تم سب کا اقبال ہوں۔اُٹھو اور ایک نئی صبح کا آغاز کرو۔“ ناصر دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور پڑھائی سمیت ہر کام میں سُست تھا۔ایک دن اسکول میں اردو کے استاد کا لیکچر سن رہا تھا،انھوں نے کہا:”علامہ اقبال نے نئی نسل کو شاہین صفت کہا تھا۔ان کے…

خاموش نیکی ۔ نایاب علی

خاموش نیکی عمر کام کی تلاش میں گھوم گھوم کر تھک چکا تھا اور اب اس کی ہمت ٹوٹ رہی تھی عید کے دن سر پر تھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے کہاں جائے بیس سے زائد دوکانداروں اور ہوٹل مالکان نے اسے اس لئے نوکری دینے سے انکار کر دیا…

سنجیدہ مذاق ۔ نایاب علی

*سنجیدہ مذاق* ماسٹر اشفاق صاحب کا نام اپنے شہر کے بہت ہی قابل اساتذہ میں آتا تھا اور ان کے بہت سے شاگرد آج مختلف شعبوں میں بہت اچھے مقام اور عہدوں پر فائز تھے۔ ماسٹر اشفاق صاحب شام کو اکیڈمی بھی پڑھاتے تھے جہاں وہ غریب اور مستحق بچوں کو وہ مفت پڑھاتے تھے۔…