قربانی نہیں دوں گا ۔ مختار چوہان

اسلم ایک عام سا انسان تھا، لیکن اس کی زندگی غیر معمولی پریشانیوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ روزانہ مزدوری کرتا، اور جو ملتا وہ بمشکل ہی گھر کے چولہے کو گرم رکھنے کے لیے کافی ہوتا۔ دو وقت کی روٹی کا بندوبست مشکل سے ہوتا تھا۔ ایسے میں…

یہ دھرتی گواہ ہے ۔ مختار چوہان

جب رات سوتی ہے، تو پاکستان کے محافظ جاگتے ہیں۔ مگر کل کی رات کچھ اور ہی تھی… دشمن نے ایک بار پھر بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ بہاولپور جیسے پرامن شہر میں، جہاں علم کے چراغ روشن تھے، وہاں کے معصوم بچوں پر میزائل داغ دیے گئے۔ یہ حملہ کسی مورچے پر نہیں، کسی چھاؤنی…

ظالم باپ ۔ مختار چوہان

*ظالم باپ (ایک رُلا دینے والی حقیقت)* صبح کی اذان کی آواز گونجی تو ایک بوڑھا سا وجود چارپائی سے ہڈیوں کی چڑچڑاہٹ کے ساتھ اٹھا۔ نیند جیسے برسوں کی تھکن میں دبی ہو، لیکن پھر بھی وہ شخص جاگا… کیونکہ اسے سونا کبھی نصیب ہی کہاں ہوا تھا۔ اُس کا جسم کہتا تھا کہ…

کردار سازی میں سکول کا کردار ۔ مختار چوہان

“یہ بچہ کبھی نہیں سدھرے گا” یہ جملہ اکثر طاہر کے والدین کی زبان پر ہوتا تھا۔ طاہر ایک چار سے پانچ سال کا بچہ تھا جس کا چہرہ تو معصوم تھا لیکن اس کی شرارتیں کسی طوفان سے کم نہ تھیں۔ گھر میں کوئی بھی دن سکون سے نہیں گزرتا تھا۔ کبھی وہ امی…

بچوں کی تربیت کیسے اور کب سے ۔ مختار چوہان

بازار میں آتے ہوئے دور سے کہیں ڈھولکی بجنے کی بہت پیاری سی آواز ہمارے کانوں کی سماعت سے ٹکرا رہی تھی۔ ہمارے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈھولکی کی آواز بھی ہمارے نزدیک آ رہی تھی اور بہت اچھی بھی لگ رہی تھی۔ نزدیک پہنچ کر دیکھا کہ صرف تین یا چار سال کا…

ٹھیکیدار بچوں کی تربیت کے ۔ مختار چوہان

*ٹھیکیدار بچوں کی تربیت کے* اس کی عمر تقریباً 6 سال کے قریب تھی۔ نہ وہ ٹھیک سے کھاتا پیتا، نہ ڈھنگ سے کوئی کام کرتا، ہر چھوٹا موٹا کام الٹے طریقے سے کرتا، نہ تو اس کا دماغ پڑھائی میں چلتا اور نہ ہی کسی اور اچھی بری سائیڈ پر اس کا دھیان تھا۔…