سکرین کا نشہ ۔ بنت اختر

“سکرین کا نشہ”
آج کا موضوع بہت بہترین ہے۔ بہت سے والدین اس بات پر بہت پریشان ہیں کہ بچے موبائل بہت استعمال کرتے ہیں ۔بچے ان کی بات نہیں مانتے ہیں ہر وقت موبائل فون کےلئے آپس میں جھگڑا کرتے رہتے ہیں ۔

سکرین ٹائم :
سکرین ٹائم سے مراد موبائل ٹی وی لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس جیسے گیجٹس کا استعمال ہے کہ بچے 24 گھنٹے کے دوران ان پہ کتنا وقت گزارتے ہیں ۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر بچےیا نو عمر چھ یا سات گھنٹے سے زیادہ سکرین پر رہیں تو ان پر نفسیاتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔
سکرین کا نشہ آج کل بہت زیادہ ہو رہا ہے ۔ جس کے بہت سے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
ایک امریکی حالیہ رپورٹ کے مطابق کم عمری میں بچوں کو سمارٹ فون دینے کے منفی اثرات کم عمری میں ہی نظر آنے لگتے ہیں ۔

سائنٹیفک امریکانا کے مطابق ہمارا دماغ کاغذ کے مقابلے سکرین پہ پڑھتے وقت زیادہ وسائل استعمال کرتا ہے۔سکرین پر جو کچھ پڑھا جاتا ہے اسے دیر تک یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے ۔ کووڈ کے بعد سکرین کا استعمال بہت زیادہ ہو گیا ہے ۔
کلاسز کے علاوہ بچے گیمز کھیلنے اور سوشل میڈیا کو تفریح کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اس سے ان کے سکرین ٹائم میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔بچے یوٹیوب چینلز کو فالو کر لیتے ہیں اور ایئر فونز کا استعمال کرتے ہیں جس سے ان کی سماعت بھی متاثر ہوتی ہے۔

*سکرین کا صحیح استعمال :
*لیٹ کرموبائل نہ دیکھیں ۔
*ایسی جگہ بیٹھ کر استعمال کریں جہاں روشنی کافی ہو ۔
*اینٹی گلیر عینک کا استعمال کریں ۔
*ائیرفونز کی بجائے سپیکر کا استعمال کریں۔
*لیپ ٹاپ اور موبائل وغیرہ ایسی جگہ رکھیں جہاں والدین بچوں پر نظر رکھ سکیں ۔
*بچوں کو جسمانی سرگرمیاں جیسے سائیکل چلانا؛ ورزش کرنا،اور دوڑنے والے کھیل کھلائیں۔
*بچوں سے دوستی رکھیں انہیں اعتماد دیں، سوشل میڈیا پر ان کے دوستوں کی پوسٹ دیکھیں اور اچھے دوستوں کی پوسٹ پر کمنٹس کریں۔

والدین اور اساتذہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ضرورت ہے تاکہ آپس میں بیٹھ کر اس مسئلے سے بچوں کو نکالنے کے لیے مناسب حل تلاش کریں تاکہ بچے ٹیکنالوجی سے بھی واقف ہوں دنیا کی دوڑ میں بھی پیچھے نہ رہے اس طرح بچے بے راہ روی اور منفی مشغو لیات سے اپنےآپ کو بچا سکیں گے ۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں بچوں کی تربیت پر توجہ دینا بہت ضروری ہو گیا ہے سوشل میڈیا نے اس قدر بے راہ روی کے دروازے کھول دیے ہیں کہ اس سے اپنی نوجوان نسل کو بچانا بہت مشکل ہو گیا ہے ۔آج کے دور میں والدین اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ انہوں نے اپنی اس مصروفیت میں اپنے بچوں کو جذباتی وابستگی سے محروم کر دیا ہے ۔

ہمارے ایک جاننے والے ہیں وہ اپنے بچوں کو بہت کم موبائل دیتے ہیں ۔ہفتے کی رات کو دیتے ہیں اور اتوارکو بچے استعمال کرتے ہیں اور اتوار کی رات کو بچوں سے واپس لے لیا جاتا ہے ۔اس میں بھی ایک شرط ہے کہ اگر پورا ہفتہ بچے کوئی شکایت کا موقع نہیں دیں گے، والدین کی بات مانیں گے اور پڑھائی اچھے سے کریں گے۔پھر پورے ہفتے کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے انہیں ویک اینڈ پر موبائل دیا جاتا ہے ۔وہ والدین جو اپنے بچوں کے موبائل کے زیادہ استعمال سے پریشان ہیں وہ یہ طریقہ استعمال کر سکتے ہیں اس کے بہت سے مثبت فوائد ہیں۔

تحریر بنت اختر
دارارقم اسکول چنیوٹ