معاشرہ استاد کے رحم و کرم پر ۔مختار چوہان

”ہم کہہ رہے ہیں کہ اگر عزت کی ضرورت ہے تو سیٹ سے کھڑے ہو جاؤ۔“ پولیس والے اور بس کے کنڈیکٹر نے یک زبان ہو کے کہا۔ جب کنڈیکٹر اور پولیس والے کی بدتمیزی حد سے بڑھنے لگی اور بس میں بیٹھے لوگوں نے بھی حالات زیادہ بگڑتے دیکھے تو بس میں بیٹھے کافی لوگوں نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ بھائی آپ ہی سیٹ چھوڑ دو کیوں معاملہ بڑھا رہے ہو، وہ پولیس والا ہے اسے بیٹھنے دو۔

اکرم صاحب جو کافی دیر سے ان دونوں کی بدتمیزی اور تلخ کلامی خاموشی سے برداشت کر رہے تھے۔ بس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے اصرار پر چپ چاپ سیٹ سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور وہ پولیس والا سیٹ پر بیٹھ گیا۔

یہ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے اکرم صاحب انگلش کے ایک پروفیسر تھے اور اسلامیہ کالج میں انگلش پڑھاتے تھے۔ وہ روزانہ بس پر سرگودھا کی طرف سے چنیوٹ اسلامیہ کالج میں پڑھانے آتے تھے۔ معمول کے مطابق وہ صبح صبح اپنے سٹاپ سے چنیوٹ والی بس پر سوار ہوئے اور بس میں ایک خالی سیٹ دیکھ کر اس پر بیٹھ گئے۔ راستے میں کسی سٹاپ سے ایک پولیس والا سپاہی یونیفارم میں بس میں سوار ہوا جسے شاید بس کا کنڈیکٹر پہلے ہی سے جانتا تھا۔

اکرم صاحب بس کی ونڈو کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے تھے. ان سے کنڈیکٹر نے کہا کہ بھائی یہ سیٹ چھوڑ دو اور اس پولیس والے کو بیٹھنے دو۔ اکرم صاحب نے کہا کہ بھائی کرایہ تو میں نے بھی دیا ہے تو کنڈیکٹر کے ساتھ اس پولیس والے نے بھی بولنا شروع کر دیا۔ جب وہ دونوں اکرم صاحب کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ بدتمیزی پر اترنے لگے، تو اپنا تعارف کراتے ہوئے اکرم صاحب بولے، ”بھائی میں اسلامیہ کالج کا پروفیسر ہوں، تو پلیز مجھے بیٹھنے دو۔“

”میں نہیں جانتا کہ پروفیسر کیا ہوتا ہے آپ بس سیٹ چھوڑ دو۔“ جواب میں کنڈیکٹر نے کہا۔ جب اکرم صاحب نے یہ سیٹ چھوڑ دی تو وہ پولیس والا بھی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سیٹ پر بیٹھ گیا۔ تحصیل چوک پہنچ کر اکرم صاحب اور وہ پولیس والا دونوں بس سے اتر گئے۔ جب اکرم صاحب کالج کے گیٹ سے اندر جانے لگے تو ایک سٹوڈنٹ بھی اسی بس سے اتر کر ان کے ساتھ گیٹ سے اندر داخل ہوا۔
” کیا آپ بھی اس بس میں تھے؟“ اکرم صاحب نے پوچھا۔
”جی ہاں سر جی“۔ سٹوڈنٹ نے کہا۔
” کالج میں اس بات کا آپ نے کسی سے بھی ذکر نہیں کرنا“۔ اکرم صاحب نے سٹوڈنٹ سے کہا۔سٹوڈنٹ نے بس ہاں میں صرف سر ہی ہلا نے پر اکتفا کیا۔

دو ڈھائی گھنٹے کے بعد اکرم صاحب روڈ پر ہنگامہ آرائی کا شور سن کر گیٹ سے باہر آئے تو روڈ پر وہی بس فیصل آباد سے واپس کالج کے گیٹ کے سامنے کھڑی تھی، وہی کنڈیکٹر تھا اور کالج کے 60- 50 کے قریب سٹوڈنٹس تھے۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ سب میرے خیال میں آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بھری بس میں کوئی بھی ایسا پڑھا لکھا انسان نہیں تھا جو کہ اس کنڈیکٹر کو پروفیسر صاحب اور پولیس والے کے درمیان سٹینڈرڈ، سکیل یا لیول کا فرق بتا سکتا۔ اگر اس کنڈیکٹر نے بھی چار جماعتیں پڑھی ہوتیں یا کچھ دن سکول گیا ہوتا تو اسے کچھ نہ کچھ استاد کے ادب و احترام کا ضرور پتہ ہوتا اور شاید وہ یہ بھی نہ کہتا کہ میں نہیں جانتا کہ پروفیسر کیا ہوتا ہے۔ آپ کنڈیکٹر کی بات تو چھوڑیں اس پولیس والے کے بارے میں سوچیں کہ وہ تو ضرور کچھ نہ کچھ پڑھا ہوا ہوگا۔ کیا اسے بھی استاد کے ادب و احترام اور پروفیسر صاحب کے سکیل، سٹینڈرڈ یا لیول کا نہیں پتہ تھا؟

اب میں اپنے عنوان کی طرف آتا ہوں۔ ہمارے اسلام میں استاد کو روحانی باپ کا درجہ اور بہت بڑا مقام و مرتبہ دیا گیا ہے۔ وہ معاشرہ کبھی نہیں سدھر سکتا، کبھی ترقی نہیں کر سکتا جس میں استاد کو ادب و احترام نہ دیا جاتا ہو۔ تاریخ پڑھ کے دیکھ لیں صرف وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن کے معاشرے میں استاد کو ادب و احترام دیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت سب کو تسلیم کرنی پڑے گی کہ یہ معاشرہ واقعی استاد کے رحم و کرم پر ہے۔ استاد بچے کو جو چاہے بنا سکتا ہے۔ ہمارے اس معاشرے میں کوئی بھی ایسا استاد نہیں ہوگا جو اپنے شاگرد کو اپنے آپ سے زیادہ کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا ہو۔ والدین تو اپنے بچوں کو سکول میں استاد کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں بعد میں استاد ہی بچے کو سنبھالتے ہیں۔

بلکہ یہ کہا جائے تو ٹھیک رہے گا کہ استاد ہی قوموں کو ایک اچھا معاشرہ دیتے ہیں۔ جس معاشرے میں استاد کی عزت کی جاتی ہے، استاد کا ادب و احترام کیا جاتا ہے اور استاد کی دی ہوئی سزا کو اپنی ہی بھلائی اور کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ صرف اسی معاشرے کو ایک اچھا اسلامی معاشرہ کہا جا سکتا ہے۔

ویسے بھی گھروں میں تو بچے اپنے ہی والدین سے کنٹرول نہیں ہوتے۔ والدین کا جب کوئی بس نہیں چلتا، کوئی چارہ اور کوئی حربہ کارگر ثابت نہیں ہوتا تو آخر کار ان کے پاس ایک ہی طریقہ بچتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں سے یہ کہتے ہیں کہ ابھی میں آپ کے ٹیچر کو فون کرتا ہوں یا پھر یہ کہتے ہیں کہ میں آپ کی یہ ساری حرکتیں صبح آپ کی ڈائری میں لکھ کے بھیجوں گا۔ اس کے فورا بعد ہی آپ کا بچہ سائلنٹ پر لگ جاتا ہے۔ مطلب کہ آج کل کے بچوں کو اپنے والدین کا بھی ڈر نہیں ہوتا۔ تو یہاں پر یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ معاشرے میں استاد ہی ایک ایسی ہستی ہے جس کے رحم و کرم پر اپنے بچوں کو چھوڑ کر آپ اپنے گھروں میں سارا دن سکون سے رہتے ہیں اور یہ معاشرہ حقیقت میں استاد کے رحم و کرم پر ہے۔

تو آخر میں یہ بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے استاد کی عزت اور ادب و احترام کرنا سیکھیں۔ ہر سٹوڈنٹ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ استاد کے ادب و احترام کو اپنے اوپر لازمی سمجھے۔ اپنے استاد کو کسی صورت میں بھی ناراض نہ ہونے دیں۔ اگر استاد کے ساتھ غلطی سے کوئی بدتمیزی یا کوئی گستاخی ہو جائے تو جتنا جلدی ہو سکے ان سے معافی مانگیں۔ استاد کے سامنے زیادہ بحث، زیادہ باتیں نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ ان کی بات کو غور سے سنا جائے۔

اس شعر کے ساتھ اپنی تحریر کا اختتام کرتا ہوں۔ شاعر کہتا ہے کہ:

رہبر بھی یہ، ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے معمار ہمارے

(مختار چوہان، چنیوٹ)