پرائیویٹ سکولز ایک بہت بڑی نعمت ۔ اعجاز احمد

“انور صاحب! آپ نے کسی کلاس کی نوٹ بکس اچھی طرح مکمل چیک نہیں کیں اور بچوں کو اس بات پر پٹائی بھی لگاتے ہیں کہ انھوں نے ٹیسٹ غلط دیا۔ جب آپ نے ان کے نوٹس چیک ہی نہیں کیے تو انہوں نے نے غلط ہی لکھنا تھا۔” پرنسپل صاحب نے انور صاحب کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔

انور نے اپنے سبجیکٹ میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ بے شمار اداروں میں ملازمت کیلئے درخواست بھیج چکا تھا۔ وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے شہر کے ایک مشہور پرائیویٹ سکول میں پڑھا رہا تھا۔ اس سے کلاس بھی کنٹرول نہیں ہوتی تھی۔ ان کے پاس بچوں کو پڑھانے کا صرف ایک ہی طریقہ مار ہی تھا۔ اصل میں وہ ٹیچنگ کرنا نہیں چاہتا تھا وہ تو صرف وقتی مصروفیت اور اپنے اخراجات پورے کرنے  کیلئے یہ ملازمت کر رہا تھا۔ وہ اکثر دوسرے اداروں میں انٹرویو کے سلسلے میں سکول سے چھٹیاں بھی کر لیتا تھا۔ سکول مینجمنٹ انور کے رویے سے بہت نالاں تھی۔

”سر میں ہر ممکن کوشش کرتا ہوں کہ وقت پر نوٹس چیک کروں لیکن بچے بہت سست ہیں۔ کام  جلدی مکمل نہیں کرتے اس طرح ان کا کام چیک ہونے سے رہ جاتا ہے۔“ انور صاحب نے صفائی پیش کی۔

”بہرحال میں مزید کوئی بہانہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اب تک آپ نے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ بچوں کے نوٹس کی چیکنگ جلد از جلد مکمل کریں اور آئندہ آپ نے چھٹی بھی  نہیں کرنی یہ آپ کیلئے آخری وارننگ ہے۔“ پرنسپل صاحب نے اپنا مخصوص  جملہ دہرایا۔

انور پرنسپل آفس سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اگر پرنسپل  میری کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں تو مجھے  ملازمت سے فارغ کیوں نہیں کر دیتے۔ ہر دفعہ یہ خالی دھمکیاں ہی تو دیتے ہیں۔ کوئی بات نہیں اگر یہاں سے فارغ ہو بھی گیا تو کسی اور سکول  میں اتنی  تنخواہ پر ملازمت مل ہی جائے گی۔  انور نے سر جھٹکا اور اپنے آنے والے ٹیسٹ اور انٹرویو کی تیاری کے بارے میں سوچنے لگا۔

سکول کے پرنسپل بنیادی طور پر ایک نرم دل، شریف اور حساس انسان تھے اسی وجہ سے اکثر ٹیچرز ان کی نرمی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے۔ پرنسپل صاحب کی حتی الامکان کوشش تھی کہ کسی بھی ٹیچر کو ناگزیر حالات کے علاوہ ملازمت سے فارغ نہ کیا جائے۔

انور سے ان کو بہت شکایات تھیں۔ لیکن وہ پر امید تھے کہ ایک دن انور ضرور ان کی ڈیمانڈ کے مطابق کلاس کو پڑھانے لگے گا۔ وہ بار بار انور کی کونسلنگ اور رہنمائی کر رہے تھے لیکن  انور نے  اپنی روش کو برقرار رکھا۔ جب شکایات بہت زیادہ بڑھ گئیں تو ایک دن پرنسپل صاحب نے انور کو آفس بلایا اور اس کے تمام مسائل اس کو بتا کر ملازمت سے فارغ کر دیا۔

پرائیویٹ سکولز میں اس طرح کے مسائل عام ہوتے ہیں۔ نوجوان گریجویٹ جب بیروزگار ہوتے ہیں تو وقتی طور پر کسی اچھی ملازمت کے ملنے تک پرائیویٹ سکولز میں ملازمت کرلیتے ہیں۔ وہاں ان کو ٹریننگ بھی ملتی ہے، ان میں اعتماد بھی پیدا  ہوتا ہے اور تنخواہ بھی ملتی ہے۔ ان اداروں میں کام کرکے ان کو معاشرے میں ایک نئی شناخت بھی ملتی ہے اور وہ تجربہ حاصل ہوتا ہے جو ان کو ملک کے بڑے اداروں میں کام کرنے کی بنیاد فراہم کرتاہے۔

اکثر نوجوان گریجویٹ جب پرائیویٹ سکولز میں ملازمت کیلئے درخواست دیتے ہیں تو تنخواہ بہت زیادہ ڈیمانڈ کرتے ہیں جبکہ میٹرک لیول کا ایک چھوٹا سا تحریری ٹیسٹ بھی پاس نہیں کر سکتے۔ ان کے اندر کمیونیکیشن سکلز، اعتماد کی بھی کمی ہوتی ہے۔ یہ بہت غیر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہ سکول میں ملازمت کو یہ ایک مشغلہ کے طور پر لیتے ہیں۔  اس کے باوجود ادارہ ایسے افراد کو اس امید پر ٹریننگ دے کر ملازمت فراہم کرتا ہے کہ ان کے رویے میں تبدیلی آ جائے گی اور جب وہ کسی کلاس کو پڑھانے کے قابل ہو تے ہیں تو اس ادارے کو خیر باد کہہ کر کسی اور ادارے کا رخ کرتے ہیں۔

انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ اچھے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے چنانچہ ان عارضی اساتذہ کو جب بھی کسی اچھی ملازمت یا زیادہ بہتر تنخواہ کے حصول کا موقع ملتا ہے یہ اسے جوائن کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ بعض اداروں کی فیس چونکہ کم ہوتی ہے اس لیے وہ ان اساتذہ کو اچھی تنخواہ نہیں دے سکتے کیونکہ  سکول بلڈنگز کے بھاری بھرکم کرایہ جات اور دیگر اخراجات کی وجہ سے ان کا بجٹ اجازت نہیں دیتا۔ کچھ ادارے جو اچھی تنخواہ دیتے ہیں لیکن ان کی سلیکشن کا معیار بہت سخت ہوتا ہے ایسے اداروں کے اساتذہ تقریباً اپنی ساری زندگی اس ادارے میں گذارتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ان اداروں میں مینجمنٹ اور والدین دونوں طرف سے ان پر سلیبس مکمل کروانے اور اچھے رزلٹ کا پریشر ہوتا ہے۔ اسی دباؤ کو برداشت کرنے سے ان کے اندر زندگی میں کوئی بڑا کام کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ کچھ اساتذہ کو سکول میں ٹیچنگ کے علاوہ دوسرے مینجمنٹ کے کام کرنے شوق ہوتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر ان کاموں میں حصہ لے کر خوش ہوتے ہیں جبکہ بعض دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ نوجوان اساتذہ کی مجبوریوں سے ادارہ ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کیلئے میرا مشورہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنی کمیونیکشن کو بہتر بنائیں، انگلش لینگویج سیکھیں، کمپیوٹر میں مہارت حاصل کریں اور نئی جدید ٹیچنگ ٹیکنیکس سیکھ کر اپنی قابلیت ثابت کریں۔ بچوں کو اتنے شوق اور محبت سے پڑھائیں کہ ان کو مارنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ سکول مینجمنٹ بچوں کو مارنے کی اجازت ہرگز نہیں دیتی۔ والدین بچوں کے سامنے کہتے ہیں کہ ان کو جیسے مرضی سز ا دیں ہماری طرف سے اجازت ہے لیکن حقیقت میں وہ بچے کو لگایا گیا ایک تھپڑ بھی برداشت نہیں کرتے۔ ان کو اپنے بچوں کی کلاس کا علم نہیں ہوتا لیکن وہ بچوں کو فیل ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔

اگر پڑھانے کا شوق اور جذبہ نہ ہو تو کبھی استاد بن کر آنے والی نسل کے مستقبل سے نہیں کھیلنا چاہیے۔ ہمارا یہ مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ جو اساتذہ شوق کے ساتھ اور کم تنخواہ کو ذہن میں لائے بغیر صرف  اپنے شاگردوں کے بارے میں سوچتے ہیں، ان پر محنت کرتے ہیں، ان کیلئے تہجد میں دعائیں مانگتے ہیں اور  اپنے پاس موجود کم تنخواہ کی ملازمت کی قدر کرتے ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ رزق کی بے شمار برکتوں سے ضرور نوازتا ہے اور ان کیلئے آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔ الحمدللہ دارارقم سکولز میں باصلاحیت نوجوانوں نے اپنی زندگیاں طلباء کی بہترین تعلیم و تربیت کیلئے وقف کر رکھی ہیں ہم ان کے اچھے مستقبل کیلئے دعاگو ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں بہترین جزائے خیر عطا فرمائے ۔( آمین )

پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہمارے ملک میں علم کے حصول کیلئے بہت بڑی نعمت ہیں۔ لاکھوں لوگوں کو حلال رزق حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ علم کے شمعوں کو روشن کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں بے روزگار ان پڑھ افراد بھی ان اداروں میں درجہ چہارم کی ملازمت حاصل کرکے اپنے خاندان کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ان اداروں سے پڑھنے والے افراد ملک کا مستقبل سنوارنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان اداروں کے ساتھ معاونت کرکے ان کے اوپر عائد مختلف قسم کے ٹیکسز کو ختم کرے تاکہ یہ ادارے زیادہ بہتر انداز میں کام کر سکیں۔

اعجاز احمد، چنیوٹ