پڑوسی کا مقام ۔ مریم عمر

“پڑوسی کا مقام”

پڑوسی کسے کہتے ہیں؟ ہمارے گھر کے قریب رہنے والے لوگوں کو پڑوسی کہا جاتا ہے۔ ایک ہی محلے میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے بات چیت نا کریں اور میل جول نہ رکھیں تو بہت سی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ اسلام ہمیں نہ صرف والدین، اساتذہ، رشتہ داروں سے حسن سلوک کی تاکید کرتا ہے بلکہ اسلام ہمیں پڑوسیوں سے بھی حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ بہت سی احادیث مبارکہ میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ لیکن آج کل کے معاشرے میں سب کی قدرو منزلت بدل گئیں ہیں۔ آج کل کے معاشرے میں تو یہ نوبت آن پہنچی ہے کہ لوگوں کے مکانوں کی دیواریں ساتھ ساتھ ہیں لیکن ایک دوسرے سے پہچان نہیں ہے ایک دوسرے سے کئی مہینوں تک بات نہیں ہوتی۔ جبکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “جبرئیل اس کثرت سے پڑوسیوں کے بارے میں احکامات لے کر آتے تھے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ کہیں پڑوسی کو وراثت کا حصہ دار نہ بنا دیا جائے”۔ لہذا ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے پڑوسی کون ہیں اور ان کے کیا حقوق ہیں۔

پڑوسی کی اقسام
(پہلی قسم) “الجارذی القربیٰ” یہ پڑوسیوں کی پہلی قسم ہے یعنی وہ پڑوسی جو سب سے قریب ہو سب سے پہلا حق بھی اسی کا ہے۔
(دوسری قسم) “والجارالجنب” وہ پڑوسی جس کا گھر، گھر سے تو نہیں ملا ہوا لیکن اسی گلی میں دو چار گھر چھوڑ کر رہتا ہو۔
(تیسری قسم) “والصاحب بالجنب” اس سے مراد یہ ہے کہ جو عارضی طور پر پڑوسی بن جائے مطلب کسی اجتماع یا جلسے میں ہمارے برابر بیٹھنے والا بھی ہمارا پڑوسی ہے۔

“پڑوسی کے حقوق”
پہلا حق:- حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑوسی کا پہلا حق یہ ہے کہ اگر وہ محتاج ہے ضرورت مند ہے تو اس کی مدد کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرما دیا تھا کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جبکہ اسکا پڑوسی بھوکا ہو۔ ایک ذمی دار پڑوسی وہی جو اپنے دوسرے پڑوسی کے حالات سے باخبر ہو۔
دوسرا حق:- دوسرا حق یہ ہے کہ پڑوسی اگر کبھی قرضہ مانگ لے تو اسکی مدد کرو۔ مثلاً اگر پڑوسی کھانے پینے سے بالکل عاجز ہے تو ایسی صورت میں اسے قرض دے کر اسکی مدد کرو۔
تیسرا حق:- پڑوسی کا تیسرا حق یہ ہے کہ اگر اسکے ہاں خوشی کی کوئی تقریب ہو تو اس میں جا کر اسے مبارکباد پیش کرو۔
چوتھا حق:- پڑوسی کا چوتھا حق یہ ہے کہ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو اسے تعزیت کرو۔ تعزیت مطلب اسکی تکلیف کو دور کرنا اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو اسے تسلی دو۔
پانچواں حق:- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر پڑوسی بیمار ہو جائے تو اسکی عیادت کرو کیونکہ عیادت کرنا بھی بہت باعث اجر عمل ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ:- “جب کوئی مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے لیے جاتا ہے تو گھر سے نکلنے سے واپسی تک وہ جنت کے باغ میں رہتا ہے”.
چھٹا حق:- اگر پڑوسی وفات پا جا ئے تو اسکے جنازے میں شرکت کرو۔اس سے ثواب بھی ملتا ہے اور پڑوسیوں سے غم خواری پر اجر بھی ملتا ہے ۔ ایک اور بات کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ اگر پڑوسی کا کوئی عیب معلوم ہو جائے تو اسکی پردہ پوشی کی جائے کیونکہ جو دوسروں کے عیب چھپاتا ہے اللہ اسکے عیب ڈھانپتا ہے۔

“حضرت ابو حمزہ سکری کا واقعہ”
جتنے بھی بزرگ گزرے ہیں انکا پڑوسیوں کے ساتھ سلوک اتنا عمدہ ہوتا تھا کہ لوگ پڑوسی ہونے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ اسی طرح ایک بہت مشہور محدث ابو حمزہ سکری کے نام سے گزرے ہیں۔ انکا نام سکری اس لیے مشہور ہوا کہ سکر عربی میں نشہ کو کہتے ہیں اور انہیں سکری اس لیے کہتے تھے کہ انکی باتیں سن کر ایک نشہ سا طاری ہو جاتا تھا۔ ایک مرتبہ کسی ضرورت کے تحت وہ اپنا مکان فروخت کرنا چاہتے تھے۔ خریدار سے بات چیت بھی ہو گئی تھی لیکن جب اہل محلہ کو علم ہوا تو سارے مل کر آپکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہمیں اپنے پڑوس سے محروم نہ کریں اور مکان فروخت کرنے کی وجہ بتائیں۔ آپ نے فرمایا کہ کچھ ضرورت آن پڑی ہے تو تمام محلے والوں نے کہا کہ جتنی رقم میں آپ مکان فروخت کرنا چاہتے ہیں اتنی رقم ہم سب مل کر آپکو ہدیہ کے طور پر پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ بس آپ ہمیں اپنے پڑوس سے محروم نہ کریں یہ سب اس لیے تھا کہ آپ اپنے پڑوسیوں کا بہت خیال رکھتے تھے ۔

آج کل ہم اپنے کاموں میں ایسے الجھ کر رہ گئے ہیں کہ ہمارے پاس بالکل وقت ہی نہیں ہوتا کہ ہم یہ معلوم کر سکیں کہ ہمارے پڑوس میں کون رہ رہا ہے کوئی ضرورت مند تو نہیں جسے ہماری مدد کی ضرورت ہو۔ یاد رکھیں معاشرے کو پر امن بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ کیونکہ کوئی کسی مقام تک ایسے ہی نہیں چلا جاتا انسان کے اپنے کچھ اعمال ہوتے ہیں جو اسے کسی منصب تک لے جاتے ہیں۔

مریم عمر دراز
دارارقم بوائز ہائی سکول فیصل آباد روڈ چنیوٹ