برائی کا انجام برا ۔مختار چوہان
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک اچھے اور دوسرے برے۔ اچھے کام کا ہمیشہ اچھا انجام ہوتا ہے اور برے کام کا برا انجام ہوتا ہے۔
جو بندہ برائی کر لیتا ہے وہ اس کے بعد اس برائی کے انجام سے بے خبر ہو جاتا ہے اور سمجھتا یہ ہے کہ وہ بالکل محفوظ ہے. لیکن ایک دن برائی نے ختم تو ہونا ہی ہوتا ہے اور اس کا انجام بھی انسان کے سامنے ضرور آتا ہے۔
اللہ تعالی نے برائی کو روکنے کے لیے کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر بھیجے. اس کے علاوہ ہر دور میں اللہ کے نیک بندےآتے رہے ہیں جو کہ برائی سے بچنے اور برائی کا انجام بتاتے رہے ہیں اور آج بھی بتاتے ہیں۔
قاسم کا تعلق سرگودھا کے گاؤں کے ایک اچھے گھرانے سے ہے۔ اس کے والد صاحب ایک سرکاری ملازم اور والدہ صاحبہ ایک بہت ہی نیک خاتون تھیں۔
قاسم ایک خوبصورت اور قد کاٹھ والا جوان تھا۔ پڑھائی کے دوران ہی اس کی گپ شپ گاؤں کے ہی ایک غریب خاندان کی لڑکی سے ہو گئی جو کہ پہلے سے شادی شدہ تھی اور اس کے تین چار بچے بھی تھے۔ لڑکی کے گھر والے سارے مرد چونکہ باہر کہیں کام پر چلے جاتے تھے اور لڑکی کو ٹائم مل جاتا تھا۔ اس لیے قاسم اور وہ لڑکی اکثر ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔
قاسم کو بھی میٹرک کرنے کے بعد اپنے باپ کی طرح ایک سرکاری نوکری مل گئی۔ پانچ یا چھ سال سروس کرنے کے بعد قاسم نے یہ نوکری چھوڑ دی۔ نوکری کے دوران بھی ان دونوں کے تعلقات ختم نہ ہو سکے۔ لڑکی کے گھر والوں کو بھی اس بات کا پتہ تھا وہ جب کام سے گھر آتے تھے تو لوگ ان کو بتاتے تھے۔ انہوں نے بہت دفعہ لڑکی کو مارا پیٹا لیکن لڑکی باز نہ آئی۔ کچھ عرصے کے بعد قاسم کی شادی ہو گئی لیکن وہ شادی اس لڑکی نے زیادہ دیر چلنے نہیں دی اور قاسم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
اس دوران قاسم کی والدہ جو کہ ایک بہت ہی نیک خاتون تھیں وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکیں اور اس دنیا سے چلی گئی لیکن یہ تعلقات پھر بھی ختم نہ ہو سکے۔
قاسم کے والد صاحب جو کہ نوکری سے ریٹائر ہو چکے تھے اکثر اپنے بیٹے کو سمجھاتے کہ بیٹا یہ کام آپ چھوڑ دو. اس بات کو لے کر چونکہ ان کی عمر بھی کافی تھی اور بیمار رہتے تھے، اس لیے وہ چارپائی سے لگ گئے۔ قاسم اور وہ لڑکی اکثر پکڑے جاتے تھے جس کی وجہ سے ان کے گھر میں بہت زیادہ لڑائی ہوتی تھی۔ لڑکی کے گھر والے بھی اس کو بہت زیادہ مارتے تھے لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ اسی بات کو لے کے قاسم کے والد صاحب بھی اس دنیا سے چل بسے۔
چونکہ برائی کو ایک دن ختم تو ہونا ہی ہوتا ہے۔ ایک دن قاسم اور وہ لڑکی قاسم کے گھر میں اکٹھے تھے تو گاؤں کے کسی بندے نے لڑکی کے گھر والوں جو کہ باہر کہیں کام پر تھے ان کو فون کر دیا اور گھر کو تالا لگا دیا۔
کچھ دیر بعد لڑکی کے سارے گھر والے مرد وہاں پہ اکٹھے تھے دیواریں پھلانگ گھر کے اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے قاسم کو بھی مارا پیٹا اور لڑکی کو گھر لے گئے۔
اس کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے قاسم پہ کیس کر دیا اور ساتھ ہی میڈیا والوں کو بھی بتا دیا کہ ہماری لڑکی کے ساتھ قاسم نے زبردستی کی ہے۔ لڑکی کے خاوند نے لڑکی کو کہا کہ قاسم کے خلاف عدالت میں اور میڈیا میں بیان دو ورنہ میں تجھے طلاق دے دوں گا۔ اس لیے لڑکی نے قاسم کے خلاف عدالت میں اور میڈیا کے سامنے بیان دے دیا کہ میرے ساتھ قاسم نے زبردستی کی ہے۔ جب لڑکی نے بیان دے دیا تو سارا کیس اور میڈیا قاسم کے خلاف ہو گیا۔
کچھ عرصہ قاسم ادھر ادھر بھاگتا چھپتا رہا اور میڈیا پر اس کے خلاف زبردستی کرنے کی خبریں چلتی رہیں۔
اسی دوران قاسم کا ایک چھوٹا بھائی جو کہ جوان تھا اور اس کی شادی قاسم کے ساتھ ہی ہوئی تھی وہ بھی فوت ہو گیا اور قاسم بھائی کے جنازے میں بھی چھپ کر آیا اور جنازہ پڑھ کر پھر بھاگ گیا۔
حالانکہ قاسم ایک بہت ہی اثر و رسوخ والا تھا لیکن چونکہ میڈیا کا زور تھا اس لیے آخر کار گرفتار ہو گیا۔
آج قاسم جیل میں سلاخوں کے پیچھے تو ہے ہی، لیکن اس نے اس کے علاوہ اس برائی کے دوران کیا کیا کھویا وہ آپ اوپر پڑھ ہی چکے ہیں، والد، والدہ، چھوٹا بھائی اور بیوی۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہر برائی سے بچنے اور نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(مختار چوہان، چنیوٹ)


