چنیوٹ کی تاریخ اور حال۔ حصہ دوم ۔ مختار چوہان

شہر چنیوٹ کی تاریخ اور حال کا بقیہ حصہ پارٹ ٹو میں پیش خدمت ہے۔ چنیوٹ کے بارے میں ایک اور مستند روایت، مشہور سیاسی و سماجی شخصیات، تاریخی مقامات، مشہور ادبی شخصیات اور چنیوٹی فرنیچر کے دلکش ڈیزائنوں جن کا ذکر اس تحریر کے پارٹ ون میں نہیں ہو سکا وہ اب پارٹ ٹو میں حاضر خدمت ہے۔

روایت ہے کہ تقریبا 326 قبل مسیح اور سکندر یونانی جو کہ اس وقت بھارت میں موجود تھا، کے دور میں چندر گپت موریہ کی ایک رانی جس کا نام رانی چندن تھاجو کہ اس علاقہ میں شکار کھیلنے آتی تھی۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بھیس بدل کر یعنی مردوں کے بھیس میں شکار کھیلا کرتی تھی۔ وہ اس جگہ کی خوبصورتی اور دلکش مناظر سے اتنا متاثر ہوئی کہ اس نے یہاں پر ایک شہر آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔ رانی چندن نے اس علاقے میں ایک قلعہ تعمیر کرایا جس کا نام چندن یوٹ تھا، یعنی چندن کے چھپنے یا رہنے کی جگہ۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا ہوا چنیوٹ بن گیا۔

چنیوٹ شہر کو 1849 میں باقاعدہ چنیوٹ کا نام اور 1862 میں اسے میونسپلٹی کا بھی درجہ دے دیا گیا۔ چنیوٹ کی تنگ، پچیدہ گلیاں اور پرانے دور کی طرز تعمیر کی باریک اینٹوں سے بنی عمارات چنیوٹ کی پہچان اور پختگی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔

چنیوٹ شہر کی مشہور و معروف اور سیاسی و سماجی شخصیات جن کا ذکر پارٹ ون میں نہیں کیا جا سکا ان میں نواب وزیر خان جو کہ عہد مغلیہ کی شخصیت تھے، نواب سعید اللہ خان، شیخ عمر حیات جن کا ذکر پارٹ ون میں کیا جا چکا ہے، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مسعود احمد لالی، علی حسن رضا قاضی اور میاں محمد منشاء جن کا شمار پاکستان کے امیر ترین تین لوگوں میں بھی شامل ہے، شامل ہیں۔

چنیوٹ شہر کے مشہور اور تاریخی مقامات جن کا ذکر پارٹ ون میں بیان نہیں کیا جا سکا ان میں مقبرہ شاہ برہان الدین، مسجد سوداگراں، قلعہ ریختی اور دھرم شالہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے چناب کے مشرقی کنارے ایک ٹیلا تھا جس کو پنج پیر کا ٹیلا بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر پانچ قبریں ہیں جن کا سائز عام قبروں سے کافی زیادہ ہے اور ان کو نو گزے پنج پیر بھی کہا جاتا ہے۔

چنیوٹ کی ادبی شخصیات کا اگر ذکر کیا جائے تو ان میں میاں صدیق لالی جو ایک پنجابی شاعر تھے، عابد تمیمی، یہ بھی ایک پنجابی شاعر تھے اور دہڑا نگاری میں ان کا بڑا نام تھا۔ اور اس کے علاوہ طاہر عباس خضر کھچی جن کے نعتیہ کلام اور پنجابی شاعری پورے پاکستان میں مشہور ہے۔

علاوہ ازیں صوبہ پنجاب میں جو آخری اور نو آموز ضلع بنایا گیا وہ ضلع چنیوٹ ہے۔ 2009 میں چنیوٹ کو ضلع کا درجہ دیا گیا اور اس کی تین تحصیلیں ہیں جو کہ چنیوٹ خود، لالیاں اور بھوانہ ہیں۔ یہ علاقہ پہلے ضلع جھنگ کا حصہ ہوتا تھا لیکن اب اس کو ایک آزاد ضلع کی حیثیت حاصل ہے۔ چنیوٹ شہر کو میدانی علاقوں میں بلا شبہ پاکستان کا سب سے زیادہ خوبصورت ضلع بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہاں پر دریا، پہاڑ، سرسبز کھیت اور سونا اگلتی زرخیز زمینیں ایک انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں۔ دریائے چناب یہاں سے بل کھاتا ہوا گزرتا ہے اور ایک بہت ہی خوبصورت اور دلکش نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

یہاں پر اگر فرنیچر کی بات کی جائے تو ہر قسم کے پرکشش اور دیدہ زیب ڈیزائنوں کا فرنیچر بنانے میں چنیوٹ شہر کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ لکڑی پر منفرد ڈیزائن، خوبصورت، دلکش اور پچیدہ قسم کی کشیدہ کاری کی وجہ سے چنیوٹی فرنیچر کی ڈیمانڈ دن بدن بڑھ رہی ہے۔ بیڈ، کرسی، میز، صوفہ سیٹ، الماریاں، جھولے یا کوئی بھی چیز ہو، ہر چیز خوبصورتی کے ساتھ ساتھ پائیداری میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے علاوہ لکڑی کا بنا پانچ منزلہ عمر حیات محل جس کا ذکر پارٹ ون میں کیا جا چکا ہے، چنیوٹی لکڑی کا کام کرنے والے کاریگروں اور شاہکاروں کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرنیچر کے اعلی معیار، منفرد نقش نگاری اور چنیوٹ کی اصل پہچان بنانے والے اس فرنیچر کی وجہ سے چنیوٹ شہر ہر سال کروڑوں کا زر مبادلہ بھی کما رہا ہے۔

آخر میں ایک بات بتاتا چلوں کہ جو روایتیں، جو مواد یا جو کچھ میرے نالج میں تھا، وہ میں نے قارین کے گوش گزار کر دیا ہے۔ گو کہ میں بھی انسان ہوں اور ہر انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں تو اگر کسی کو پارٹ ون یا پارٹ ٹو میں غلطیاں نظر آئیں تو مہربانی فرما کر وہ ضرور میری اصلاح کریں اور کمنٹس میں ضرور highlight کریں تاکہ میرے اور پڑھنے والوں کے نالج میں اور اضافہ ہو سکے۔

معذرت کے ساتھ، شروع سے انسان کا یہ خاصہ رہا ہے اور یہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ لوگ غلطیاں تو بہت نکالتے ہیں لیکن اصلاح نہیں کرتے۔

مثال کے طور پر کسی صاحب نے ایک کاغذ پر ایک تصویر بنا کر ایک چوراہے میں لگا دی اور اس پر لکھ دیا کہ اس میں جو غلطیاں ہیں وہ highlight کریں. صبح جب ان صاحب نے وہ کاغذ دیکھا تو اس میں لوگوں نے اتنی غلطیاں نکالیں کہ کاغذ پر تصویر نظر ہی نہیں آرہی تھی۔ اگلے دن ان صاحب نے اسی طرح کی ایک اور تصویر بنا کر وہیں پر لگا دی اور اوپر لکھ دیا کہ اس میں جو جو غلطیاں ہیں وہ ٹھیک کر دیں اور میری اصلاح کریں۔ اگلی صبح جب ان صاحب نے وہ تصویر جا کر دیکھی تو اس تصویر پر کسی نے ایک لکیر بھی نہیں لگائی ہوئی تھی بلکہ تصویر بالکل اسی طرح کاغذ پر موجود تھی۔ مطلب ہم لوگ دوسروں کی غلطیاں تو بہت نکالتے ہیں لیکن اصلاح نہیں کرتے.

اللہ تعالی ہمارے شہرچنیوٹ کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین

(مختار چوہان، چنیوٹ)