استاد کا مقام و مرتبہ ۔ مریم عمر

استاد کا مقام و احترام

استاد کا نام سنتے ہی پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ استاد آخر کسے کہتے ہیں ؟؟ سکندر اعظم کا قول ہے کہ “میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا اور میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا”۔ اس قول سے ایک بات تو واضح ہے کہ استاد وہ ہوتا ہے جو ہمارے گمان کو سوچ میں بدلتا ہے۔ استاد وہ ہستی ہے جس کی نگاہوں میں شفقت اور رویے میں شائستگی ہوتی ہے۔ استاد تو وہ ہے جو اپنے ہاتھ میں شمع لے کر شمس و قمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ

“یہ مہر تاباں سے جا کر کہہ دو کہ اپنی کرنوں کو گن کر رکھ لیں
میں اپنے صحرا کے ذرے ذرے کو چمکنا سکھا رہا ہوں”

استاد اور شاگرد کا ایک دلچسپ واقعہ

ایک مرتبہ ایک شہزادے کی ماں نے اس کے استاد سے شکایت کی کہ یہ بہت شرارتیں کرتا ہے استاد نے اگلے دن شاگرد کو بلایا اور دو تھپڑ لگائے اور کہا کہ کان پکڑ لو شہزادے نے فوراً استاد کی بات مانی لیکن ساتھ ساتھ رونے لگا چہرہ لال سرخ ہو گیا۔ لیکن استاد کو اس پر ذرا بھی رحم نہ آیا۔ اتنے میں کسی نے استاد کو خبر دی کہ بادشاہ کا وزیر آ رہا ہے۔ استاد نے شاگرد سے کہا بیٹھ جاؤ آرام سے شہزادے نے اپنا منہ صاف کیا اور بیٹھ گیا وزیر نے استاد سے بات کی اور اس دوران شاگرد نے اپنی حالت ذرا بھی ظاہر ہونے نہ دی۔ وزیر کے جانے کے بعد استاد نے شاگرد سے کہا کہ میں نے تمہیں اگرچہ تمہاری بھلائی کے لیے مارا لیکن اچھا کیا تم نے میری شکایت نہیں کی وزیر سے۔ شہزادے نے کہا جو اپنے استاد کی شکایت کرے وہ کیسے کوئی کامیابی پاسکتا ہے۔ جانتے ہیں کہ اس شاگرد کا نام کیا تھا؟؟ انکا نام مامون رشید تھا۔ جو کہ ہارون الرشید کے بیٹے تھے اور یہ شہزادہ مستقبل میں جا کر بہت مشہور ہوا اور نامور بادشاہ گزرا۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ استاد خود تو بادشاہ نہیں ہوتا مگر اپنے شاگردوں کو بادشاہ ضرور بنا دیتا ہے۔

اگر ایک استاد اور طالب علم کے رشتے کی بات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ مقدس رشتوں میں ایک مقدس رشتہ استاد اور شاگرد کا بھی ہے۔ مگر بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ بہت سے تعلیمی اداروں میں نا جانے طالب علموں کو کیا ہوتا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کی عزت نہیں کرتے اور پھر اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہوتے۔ کیونکہ کوئی بھی رشتہ ہو عزت و احترام اس رشتے کا پہلا حق ہوتا ہے۔ ہم سب پر یہ لازم ہے کہ ہم صرف اپنے استاد کی ہی نہیں بلکہ سب اساتذہ کی عزت کریں چاہے وہ کسی بھی ادارے سے تعلق رکھتے ہوں۔ کیونکہ استاد وہ ہے جو خود جل کر بہت ساری شمعوں کو روشن کرتا ہے۔

مریم عمر دراز
دارارقم بوائز ہائی سکول فیصل آباد روڈ چنیوٹ