روزانہ تیس منٹ ۔ بنت اختر
“”””””30 منٹ “”””
“ان الصلوۃ تنہا عن الفحشاءوالمنکر°”
نماز دین کا ستون اور اسلام کا دوسرا اور اہم رکن ہے ۔نماز اہم ترین بدنی عبادت ہے ۔جس طرح مال پاک کرنے کے لیے زکوۃ فرض ہے اسی طرح بدن کی زکوۃ روزہ اور نماز ہے ۔
نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن پاک میں 700 سے زائد مرتبہ نماز قائم کرنے کا حکم آیا ہے ۔
جب نماز کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم نماز کیسے پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا “صلو کما رایئتمونی°” نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ۔
پہلے پہل مسلمان چھپ کر نماز پڑھتے تھے مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے کھلم کھلا خانہ کعبہ میں نماز پڑھنا شروع کر دیا ۔
جس نماز کی فرضیت کا حکم قرآن پاک میں بار بارآیا ہے کیا وجہ ہے کہ ہم اس کو ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں ؟
ایک دن ایک استاد صاحب نے اپنے کمرہ جماعت میں بچوں سے پوچھا کہ کون لوگ ہیں جو نماز ادا نہیں کرتے ؟جو نماز نہیں پڑھتے ؟ کسی بچے نے جواب دیا کہ وہ کافر ہیں کیونکہ کافر نماز نہیں پڑھتے ۔کسی بچے نے کہا کہ ہندو اور عیسائی نماز نہیں پڑھتے کسی بچے نے کہا کہ جو مردہ ہیں وہ نماز نہیں پڑھتے ۔پھر استاد نے بچوں سے کہا کہ چلیں اپنا جائزہ لیں اور بتائیں کہ ہم پھر مسلمان ہونے کے باوجود نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟
اس بات پر سارے جماعت میں خاموشی چھاگئی ۔
میرا آپ سے بھی سوال ہے کہ آخر ہم کون ہیں؟کیا ہم مردہ ہیں؟ یا ہم کافر ہیں؟ یا ہندو ہیں؟ یا ہم عیسائی ہیں؟ کہ ہم نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟
اللہ نے ہمیں دین اور رات میں 24 گھنٹے دیئے ہیں جس میں سے 12 گھنٹے ہم سونے میں گزارتے ہیں اور باقی کے 12 گھنٹوں میں سے صرف 30 منٹ اندازا”پانچ نمازوں میں صرف ہوتے ہیں ۔کیا ہم 24 گھنٹوں میں سے صرف 30 منٹ اپنے اللہ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے نہیں نکال سکتے ہیں ؟30 منٹ بھی اتنےقیمتی کہ قیامت کے روز جس کے بارے میں سب سے پہلے پوچھا جائے گا ۔جس کی رب نے کوئی معافی ہی نہیں رکھی ۔آپ کھڑے ہو کر نہیں نماز پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھیے ، بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے ہیں تو لیٹ کر پڑھیے ، لیٹ کر نہیں پڑھ سکتے تو اشاروں سے پڑھیے، مگر پڑھیے !
اسی نماز کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کہا !جنت کی کنجی کہا !
مگر ہم سارا سارا دن اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں نماز کی فکر ہی نہیں کرتے ۔محفل میلاد تو زور و شور سے سجاتے ہیں مگر افسوس نماز جیسا اہم فریضہ چھوڑ دیتے ہیں۔ساری ساری رات محافل ہوتی ہیں مگر صبح فجر کی نماز بھی نہیں پڑھتے ۔
سانس لینے میں دشواری نہیں کھانے پینے میں کمی نہیں، لباس اچھے سے اچھا ملتا ہے، ہر کام اپنی خوشی حاصل کرنے کے لیے ہر وقت کرتے ہیں، مگر نماز جسے اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوتی ہے وہ کیوں ادا نہیں کر سکتے ؟؟؟؟؟
“””قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے بے شک نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے “””
نماز دل کا سکون ہے ۔نماز سے وقت کی پابندی ہوتی ہے ۔نماز رب سے ملاقات کا ذریعہ ہے ۔نماز مومن اور کافر کے درمیان فرق کرنے والی چیز ہے ۔پھر ہم نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟
صحابہ کرام اب اتنے خشوع و خضوع سے نمازیں ادا کرتے وہ صحابہ جن کو جنت کی بشارت تک دے دی گئی کیا ہمارے پاس کوئی ایسا عمل ہے جس کی بنا پر ہم اپنی نمازیں چھوڑ دیں اور ہمیں کوئی فرق ہی نہ پڑے ؟؟؟
“”حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ بے نمازی کو الگ قبرستان میں دفن کرو “”۔
“حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو جب تیر لگائے گئے تو انہوں نے فرمایا کہ جب میں نماز کی حالت میں ہوں تو میرے جسم سے تیر نکالنا ۔”
حضرت امام حسین(رض) کا طرز عمل دیکھیے نماز عصر کا وقت ہےنماز ادا کر رہے ہیں۔ دشمن کو بھی پتہ ہے کہ یہ نماز ایسی ہے کہ جس میں دنیا کی کوئی خبر نہیں بس سجدے میں سر قلم کر دیا جاتا ہے ۔
اتنی عظیم ہستیاں اتنی نازک صورتحال میں بھی نماز ادا کر رہی ہیں بتائیے آپ اور میں ہم سب نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟اپنی نمازوں کی فکر کیوں نہیں کرتے ؟کیا ہمارے پاس دن میں 30 منٹ نہیں ہے ؟قیمتی 30 منٹ ؟ ذرا نہیں پورا سوچیے !!!
“وہ سجدوں کے شوقین غازی کہاں ہیں ؟
زمیں پوچھتی ہے نمازی کہاں ہے؟ ”
اگر ہم واقعی مردہ نہیں، کافر نہیں ،ہندو نہیں ،تو پھر آئیے آج سے ہم اپنی نمازوں کی فکر کرتے ہیں اور نمازوں کو خشوع خضوع سےادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور اپنے مسلمان ہونے کا حق ادا کرتے ہیں ۔
ایک مرتبہ علامہ اقبال نماز ادا کر رہے تھے ۔ایک انگریز بڑے غور سے انہیں دیکھتا رہا ۔جب علامہ اقبال نے نماز ادا کر لی تو وہ انگریز ان کے پاس آیا اور کہا کہ آپ نے یہ ورزش کہاں سے سیکھی ؟علامہ اقبال نے انہیں مسکرا کر جواب دیا کہ یہ ورزش نہیں ہماری نماز ہے ۔اور مسلمان اسے دن میں پانچ مرتبہ ادا کرتے ہیں ۔وہ انگریز اتنا حیران ہوا اس نے بتایا کہ یہ انتہائی مفید ورزش ہے جیسےآپ سجدے میں جاتے ہیں جیسے آپ نے رکوع کیا اس کے بہت سارے فائدے ہیں ۔۔۔تو دیکھیےنماز کے کس قدر فائدے ہیں ؟ آئیے آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم انشاءاللہ اپنی نمازوں کی فکر کریں گے اور نمازوں کو وقت پر ادا کرنے والے اچھے اور با عمل مسلمان بنیں گے ۔
تحریر بنت اختر
دارارقم سکول چنیوٹ


