ہم حلال روزی کو حرام کیسے بناتے ہیں ۔مختار چوہان

ہمارے پیارے مذہب اسلام میں حلال روزی کمانے اور حرام سے بچنے کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بھی کئی مقامات پر حلال رزق کمانے اور حرام سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ احادیث مبارکہ میں بھی اس چیز پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے کہ مسلمان حلال کھائیں اور حرام سے بچیں۔ مختلف احادیث مبارکہ میں حلال رزق کمانے کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔

حلال رزق کمانے والا جنتی ہے اور رزق حلال کھانے والے کی دعائیں بھی جلدی قبول ہوتی ہیں۔ اسی طرح حرام کی کمائی سے کمایا گیا رزق اور نوالہ انسان کے دل اور انسانی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے اور وہ روحانی طور پر بیمار اور کمزور پڑ جاتا ہے۔ انسان کو چونکہ اشرف المخلوقات کہا گیا ہے اس لیے اچھی اور متوازن غذا کے ساتھ ساتھ غذا کا حلال ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لالچ میں اللہ کی عطا کا انتظار نہیں کرتے اور حلال حرام کی تمیز بھول جاتے ہیں. یہاں تک کہ ہمارے دل کو حرام کا چسکا پڑ جاتا ہے اور پھر ہمارا معدہ حلال غذا قبول ہی نہیں کرتا۔

حرام کی بہت سی اقسام ہیں مثال کے طور پر خنزیر کا کھانا، قتل کرنا، بدکاری، سود کھانا، شراب پینا اور یہاں تک کہ والدین کی نافرمانی، غیبت کرنا، جھوٹ بولنا اور مردار کا کھانا بھی حرام ہے۔

اس کے علاوہ ہم کہیں کسی کمپنی یا آفس میں کام کرتے ہیں اور وہاں پہ ہم چوری، غبن، دھوکہ بازی یا پیسے میں بے ایمانی کرتے ہیں. یہاں تک کہ وہاں سے کوئی چیز اٹھا کے ہم اپنے گھر لے جاتے ہیں، استعمال کرتے ہیں تو یہ بھی حرام کے ہی زمرے میں آئے گا اور اس کی بھی آخرت میں پوچھ ہوگی۔

پچھلے دنوں ایک دوست جو کہ سرگودھا کسی کمپنی کے آفس میں کام کرتے ہیں، بتا رہے تھے کہ میرے آفس کا کمپیوٹر خراب ہو گیا۔ باس نے کہا کہ ٹھیک کروا کے لے آؤ۔ میں کمپیوٹر والی دکان پر لے گیا اور ٹھیک کروانے کے بعد پیسے پوچھے تو دکاندار نے کہا کہ 750 روپے ہو گئے۔

میں نے کہا ٹھیک ہے بل بنا دیں، تو وہ پوچھنے لگا کہ کتنے کا بل بنانا ہے. میں حیران ہوا اور کہا کہ آپ نے کہا تو ہے کہ 750 روپے ہو گئے پھر پوچھنے کا کیا مطلب؟ کہنے لگا کہ بھائی ہمارے پاس جو بھی کسی آفس یا کمپنی سے آتا ہے تو مزدوری تھوڑی ہوتی ہے اور وہ بل زیادہ کا بنوا کے لے جاتے ہیں مطلب اپنی بھی دیہاڑی بنا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی دکان سے یا کہیں سے بھی آفس یا کمپنی کے لیے کوئی چیز لیتے ہیں تو چیز کم پیسوں کی ہوتی ہے اور بل زیادہ پیسوں کا بنوا کے لے جاتے ہیں، ہر جگہ پر یہی کچھ ہو رہا ہے۔

میں سوچ رہا تھا کہ ہمارا باس یا مالک جو ہمیں اس کام کی سیلری دے رہا ہے اس کا کیا؟ مگر افسوس کہ ہمارے اس ملک میں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بلکہ اس کو یوں کہنا بہتر رہے گا کہ جس برتن میں کھایا اسی میں چھید کیا۔

تو جناب یہ بھی ایک قسم کا حرام ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ اس حرام میں انسان اور بھی گناہوں کا مرتکب ہو جاتا ہے. مثلا اپنے مالک سے بے ایمانی اور دھوکہ بازی حالانکہ وہ ہمیں پہلے ہی ہماری محنت اور ہماری سیلری دے رہے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ کو کمپنی کے کسی سٹور یا کچھ چیزوں کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے، کہ آپ نے یہ چیزیں بیچ کر رقم کمپنی کے مالک کو دینی ہے. آپ وہ چیزیں سب سے چوری بیچتے رہتے ہیں، پیسے اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں اور وہ مالک کے ریکارڈ میں نہیں آتے۔

گو کہ ہمارے مذہب اسلام نے کسی کا پردہ فاش کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کے سامنے آپ کے جونیئر ورکر غلط کام کرتے رہیں اور آپ اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

یاد رکھیں، اگر آپ یہ سب دیکھ کر بھی اس طرح کے کام کرنے والے ورکرز کو نہیں روکتے، نہیں کنٹرول کرتے یا کمپنی کے مالک کو یہ سب نہیں بتاتے تو آپ اس کے حرام کمانے کے اس عمل میں برابر کے شریک ہیں.

یاد رکھیں، آج ہم جن گھر والوں کی خوشیوں اور خواہشات پوری کرنے کی خاطر انہیں حرام کما کے کھلاتے ہیں۔ کل آخرت میں یہی ہمارے بیوی، بچے اور بہن بھائی ہمارا گریبان پکڑ کر کہیں گے کہ باری تعالی یہ ہے وہ بندہ جو ہمیں حرام کھلاتا تھا۔

تو بھائیو، ابھی ہمارے پاس وقت ہےسنبھل جائیں۔ ویسے ایک بات ہے کہ کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ ہمارے کمائے ہوئے حرام مال پر عیش و آرام کریں ہمارے بیوی بچے اور آخرت میں شرمندگی اور عذاب اٹھائیں گے ہم؟ سوچنا ضرور۔۔۔۔۔؟

آخر میں خداوند باری تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو حرام کھانے، حرام دیکھنے اور حرام بولنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین.

(مختار چوہان، چنیوٹ)