صلہ رحمی ۔ محمد عرفان
صلہ رحمی
صلہ رحمی کا مطلب ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ان کے ساتھ خوشی اور غمی میں شریک رہنا
قران پاک میں بہت سی جگہوں پر رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید ائی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے ساتھ اس نے سلوک کی تربیت ملتی ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو غریب رشتہ داروں سے صلہ رحمی کی تلقین کے ساتھ ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین فرمائی ہے صلہ رحمی کی سیرت طیبہ سے بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔
صلہ رحمی سیرت طیبہ کی روشنی میں
حضرت ابو طلحہ کا واقعہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ سے فرمایا کہ وہ اپنا باغ اپنے غریب رشتہ داروں کو دے دیں چنانچہ انہوں نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور اپنے چچا کے لڑکوں میں تقسیم کر دیا۔
صلہ رحمی عمر اور رزق میں برکت کا ذریعہ
یہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہے کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور اس کی عمر لمبی ہو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے
اس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے شخص کو رزق میں برکت اور عمر میں برکت کی ضمانت عطا فرمائی۔
رحمی قطع رحمی یہ صلہ رحمی کا متضاد لفظ ہے جس کا مطلب ہے قریبی رشتہ داروں کے حقوق ادا نہ کرنا اور ان کی خبرگیری سے غفلت برتنا قطع رحمی کہلاتا ہے اللہ تعالی نے قطع رحمی کرنے والوں کو نقصان اٹھانے والے قرار دیا ہے اور قیامت کے دن صلہ رحمی کے متعلق پوچھا جائے گا
قطع رحمی کی مذمت
سیرت طیبہ میں قطع رحمی کی بہت سی جگہوں پر مذمت ائی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع تعلق کی کرنا کرنے کو بہت ناپسند فرمایا ہے چنانچہ ایک حدیث پاک ہے جس کو حضرت عبداللہ بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اج کوئی قطع تعلقی کرنے والا ہمارے پاس نہ بیٹھے تو ایک نوجوان اس محفل سے اٹھا اس کا اپنی خالہ کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا اس نے ان سے معذرت کی اور پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی کی رحمت اس قوم پر نازل نہیں ہوتی جس میں کوئی قطع تعلقی کرنے والا موجود ہو۔
اصل صلہ رحمی
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے بعض رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں وہ مجھ سے تعلق توڑ دیتے ہیں میں ان سے بھلائی کرتا ہوں وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں میں ان سے بردباری سے پیش آتا ہوں وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن کر فرمایا:اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تم نے کہی تو تم ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم ایسا ہی کرتے رہو گے اللہ تعالی کی طرف سے ان کے مقابلے میں تمہارا ایک مددگار رہے گا۔


